استعمال شدہ موبائل خریدنے والے ہوجائیں ہوشیار !!!

Buyers of used mobile phones should beware!
پولیس حکام نے شہریوں کو سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنے کے معاملے پر محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بغیر تصدیق استعمال شدہ موبائل خریدنا خریدار کو قانونی مسائل میں مبتلا کر سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں تفتیش اور پوچھ گچھ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
مہنگے موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سیکنڈ ہینڈ فونز کی خرید و فروخت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سہولت بظاہر سستی لگتی ہے، مگر کئی افراد کے لیے بعد میں مشکل بن جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق اکثر لوگ موبائل خریدتے وقت اس کی مکمل جانچ نہیں کرتے۔
لاہور پولیس کے موبائل ٹریکنگ یونٹ نے حالیہ تحقیقات میں بتایا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شہر سے 35 ہزار سے زائد چوری اور چھینے گئے موبائل فونز برآمد کیے جا چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے فونز کی ہے جو دوبارہ مارکیٹ میں فروخت ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ فون استعمال کرنے والے افراد بھی تفتیش کی زد میں آئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب لوگ غیر رجسٹرڈ دکانداروں یا آن لائن پلیٹ فارمز سے موبائل خرید لیتے ہیں۔ ایسے فونز اکثر چوری شدہ ہوتے ہیں یا ان کا ریکارڈ مشکوک ہوتا ہے۔ جب یہ فون ٹریس ہوتے ہیں تو موجودہ صارف کو طلب کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے آل پاکستان موبائل فونز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر ذیشان خالد نے کہا کہ موبائل فون خریدتے وقت آئی ایم ای آئی نمبر کی تصدیق بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین صرف مستند اور رجسٹرڈ دکانوں سے خریداری کریں۔ اس احتیاط سے قانونی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سستے کے چکر میں کوئی بھی موبائل خریدنے سے پہلے مکمل تسلی کر لیں۔ تھوڑی سی احتیاط آپ کو بڑی پریشانی سے بچا سکتی ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












