جمعہ، 20-فروری،2026
جمعہ 1447/09/03هـ (20-02-2026م)

چلتی پھرتی اسرائیلی مخبر: جدید گاڑیاں خفیہ نگرانی کا ذریعہ بن گئیں

18 فروری, 2026 10:38

جدید دور میں گاڑیاں محض سفر کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ انٹرنیٹ سے منسلک ڈیجیٹل نظام میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ اس تبدیلی نے عالمی انٹیلی جنس مارکیٹ میں ایک نیا شعبہ متعارف کرا دیا ہے جسے کار انٹیلی جنس یا کار انٹ کہا جاتا ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اسرائیل اس ابھرتے ہوئے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے اور کئی اسرائیلی کمپنیاں اس میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آج کی گاڑیاں درحقیقت پہیوں پر چلتے کمپیوٹرز ہیں، جن میں بلٹ ان سم کارڈ، جی پی ایس نظام، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور ملٹی میڈیا پلیٹ فارم موجود ہوتے ہیں۔ یہ نظام مسلسل ڈیٹا منتقل کرتے رہتے ہیں جسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انٹیلی جنس حلقوں میں گاڑیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو کار انٹ کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم تین اسرائیلی کمپنیاں اس شعبے میں سرگرم ہیں اور وہ ایسے آلات اور سافٹ ویئر تیار کر رہی ہیں جو حکومتی اداروں کو حقیقی وقت میں گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، وسیع ڈیٹا بیس سے معلومات کا تقابل کرنے اور ہزاروں گاڑیوں میں سے مخصوص ہدف کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

صنعتی ذرائع کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا فیوژن سسٹمز مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو یکجا کرتے ہیں، جن میں گاڑیوں کا ٹیلی میٹری ڈیٹا، سڑک کنارے کیمروں کی تصاویر، اشتہاری ڈیٹا اور موبائل فون میٹا ڈیٹا شامل ہیں۔ اس طریقہ کار میں کسی ایک ڈیوائس کو براہ راست ہیک کرنے کے بجائے قانونی یا تجارتی طور پر دستیاب ڈیٹا اسٹریمز کو یکجا کر کے نگرانی کا ایک مکمل خاکہ تیار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں اسرائیلی کمپنی ٹوکا کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جس کی بنیاد سابق وزیر اعظم ایہود باراک اور اسرائیلی فوج کے سابق سائبر سربراہ یارون روزن نے رکھی۔ ہارٹز کے مطابق ٹوکا نے ایک ایسا نظام تیار کیا تھا جو گاڑی کے ملٹی میڈیا سسٹم میں رسائی حاصل کر کے اس کا مقام معلوم کرنے اور دور سے مائیکروفون یا ڈیش بورڈ کیمروں کو فعال کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : موساد کیلئے جاسوسی : روس میں واٹس ایپ پر پابندی کی وجہ بنی

بتایا گیا ہے کہ اس نظام کو اسرائیلی سکیورٹی وزارت کی منظوری بھی حاصل تھی تاکہ اسے پیش کیا جا سکے اور برآمد کیا جا سکے۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ 2026 کے منصوبہ بندی روڈ میپ کے تحت اب وہ اس ہیکنگ ٹول کی فروخت نہیں کر رہی۔

ماہرین کے مطابق گاڑیوں کے سسٹمز میں دراندازی تکنیکی طور پر پیچیدہ عمل ہے کیونکہ ہر کار ساز ادارہ الگ ڈیجیٹل ڈھانچہ استعمال کرتا ہے۔ اس کے باوجود گاڑی کے اندر موجود مائیکروفون اور کیمروں تک دور سے رسائی کے امکانات نے رازداری اور سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایک اور اسرائیلی کمپنی رے زون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ذیلی کمپنی ٹی اے نائن کے ذریعے گاڑیوں کی نگرانی کے آلات فروخت کر رہی ہے۔ یہ نظام براہ راست ہیکنگ کے بجائے سم کارڈ ٹریکنگ، بلوٹوتھ سگنلز اور نمبر پلیٹ شناختی نظام سے حاصل شدہ ڈیٹا کو یکجا کر کے معلومات فراہم کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس صنعت اب روایتی فون ہیکنگ ٹیکنالوجی سے ہٹ کر بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیٹا تجزیاتی پلیٹ فارمز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ماضی میں این ایس او گروپ جیسی کمپنیوں کا نام نمایاں رہا، تاہم اب توجہ وسیع ڈیٹا کے انضمام اور تجزیے پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔

امریکہ میں پالانٹیر ٹیکنالوجیز جیسی کمپنیاں نمبر پلیٹ ڈیٹا بیس اور گاڑیوں کے رجسٹری ریکارڈز کا تجزیہ کر کے انہیں بڑے انٹیلی جنس نظام کا حصہ بناتی ہیں، جبکہ اسرائیلی کمپنی سیلی برائٹ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ڈیجیٹل شواہد نکالنے اور ان پر عمل کاری کے شعبے میں سرگرم ہے، جس میں گاڑیوں سے متعلق ڈیٹا بھی شامل ہوتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی حکام نے نجی شعبے کے تعاون سے ایسی جدید صلاحیتیں تیار کیں جن کی مدد سے فوجی اڈوں اور سرحدی علاقوں سے چوری ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ بعد ازاں ان ٹولز کو فوجی نظام میں ضم کر دیا گیا۔

تحقیق میں چین کے اس ریگولیٹری فریم ورک کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت مقامی کار ساز اداروں کو گاڑیوں کا ڈیٹا ریاستی حکام کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی افواج نے بعض چینی برقی گاڑیوں کے فوجی تنصیبات میں داخلے پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پابندیاں عائد کیں۔

سکیورٹی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ گاڑیوں کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن جہاں نگرانی کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے وہیں سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی بڑھا رہی ہے۔ اخلاقی ہیکرز نے تجرباتی ماحول میں یہ ثابت کیا ہے کہ بعض حالات میں اسٹیئرنگ سسٹم کو متاثر کرنا یا انجن کو دور سے بند کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق بعض حکومتی خریدار گاڑیوں کو دور سے غیر فعال کرنے والی ٹیکنالوجی میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے گاڑیاں مزید منسلک اور خودکار ہوتی جائیں گی، وہ انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے عمل میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ تاہم رازداری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی کنیکٹیویٹی صارفین کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع اور ممکنہ طور پر مداخلت پر مبنی نگرانی کے نظام کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ کسی ایک گاڑی کو براہ راست ہیک کرنا اب بھی تکنیکی طور پر مشکل ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے ذریعے گاڑیوں سے پیدا ہونے والے ڈیٹا کو وسیع پیمانے پر یکجا کر کے ایسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جو براہ راست دراندازی کی ضرورت کو کم کر دیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔