فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل، پچاس کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری

پاکستان نے ٹیلی کام کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں کروڑوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے۔
پاکستان کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔
اس نیلامی میں عالمی اور مقامی سطح کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، جن میں زونگ (چائنا موبائل)، یوفون (اتصالات) اور جاز (ویون گروپ) شامل ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیلامی پاکستان کے ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضح علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کمپنیوں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے معاشی اصلاحاتی عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
اسی تسلسل میں کامیاب کمپنی جاز نے آئندہ تین سالوں کے دوران پاکستان میں مزید ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں فائیو جی سروس کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل
خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ اس سے قبل پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے چھ سو پینتالیس ملین ڈالر کی دلچسپی بھی ملکی معیشت کی بحالی کا اہم اشارہ ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری سے فضائی رابطے مضبوط ہوں گے، جبکہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے آنے سے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انقلاب آئے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی اور عالمی سرمایہ کاری میں یہ تسلسل ملکی معیشت کی طویل المدتی استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
یہ تمام مثبت پیش رفت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے تشکیل دی گئی، مؤثر حکمت عملی اور معاشی وژن کا عملی ثمر ہے، جس سے پاکستان ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












