امریکا کا ایران پر حملے میں مدد سے انکار، اسرائیل تنہائی کا شکار
ایران کی جانب سے اسرائیل پر فضائی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کہا ہے کہ ان کا ملک تہران کیخلاف کسی بھی جوابی حملے میں ملوث نہیں ہوگا۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ بیان نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران اسرائیل کے خلاف ایران کے حملوں کے تناظر میں دیا گیا۔
جو بائیڈن نے فون پر بات چیت کے دوران واضح کیا کہ ان کا ملک ایران کیخلاف کسی جارحانہ کارروائی میں ملوث نہیں ہوگا، وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے اس امریکی موقف کو قبول کر لیا ہے۔
امریکی صدر اور انکے سینئر مشیروں کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران کے فضائی حملوں پر اسرائیل کی جوابی کارروائی بڑے پیمانے پر تنازع کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
جو بائیڈن نے فون کال کے بعد ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران، یمن، شام اور عراق سے آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کو ناکام بنانے میں اسرائیل کی مدد کے لیے گزشتہ ہفتے خطے میں طیارے اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائر تعینات کیے تھے۔
امریکی صدر جو بائیڈن آج (اتوار) جی 7 اجلاس کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کریں گے جس میں ایران کے فضائی حملوں کے خلاف متحدہ سفارتی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ آج اتوار کی صبح ایران نے اسرائیل پر 200 سے زائد ڈرونز اور میزائلوں سے فضائی حملہ کیا تھا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ‘ٹرو پرومیس’ آپریشن کے تحت کی گئی ہے اور یہ اقدام ‘اسرائیلی جرائم’ کی سزا کا حصہ ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کی علی الصبح یروشلم کے اوپر آسمان پر کئی مقامات پر سائرن بجنے لگے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایران کے آلہ کاروں اور اتحادیوں نے اسرائیلی ٹھکانوں پر مربوط حملے کیے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ڈرونز کو اپنی فضائی حدود تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگیں گے۔
یہ حملہ شام میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کے حملے کے تقریبا دو ہفتے بعد ہوا ہے جس میں پاسداران انقلاب کے سات ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے شام میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کے صیہونی ادارے کے جرم کے جواب میں ڈرون اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک آپریشن شروع کیا ہے۔
یہ آپریشن درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










