جے شنکر کی چین میں غیرموجودگی: مودی اپنے وزیرِ خارجہ کو انڈیا میں کیوں چھوڑ گئے؟
جے شنکر کی چین میں غیرموجودگی نے عالمی ماہرین کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے جس کے تحت کہا جا رہا ہے کہ کیا مودی بیجنگ کی ناراضی کے سبب اپنے وزیرِ خارجہ کو انڈیا میں چھوڑ گئے؟
18 اگست کو بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے چینی ہم منصب وانگ یی کے دورہ بھارت میں انکے سامنے یہ مؤقف اپنایا کہ بھارت دنیا ہی نہیں بلکہ ایشیا میں بھی کسی ایک ملک کی بالادستی قبول نہیں کرتا، گویا چین کی علاقائی برتری کو رد کیا۔ جے شنکر پہلے بھی چین کو ’سب کے لیے مسئلہ‘ قرار دے چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ و یورپ بھی اسی تناظر میں چین پر بحث کرتے ہیں۔
گزشتہ سال 9 ستمبر کو چینی سرکاری جریدہ گلوبل ٹائمز نے آرٹیکل لکھا کہ جے شنکر چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی ناکام سفارتکاری چھپانے اور امریکہ کو خوش رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں
جب 2019 میں ایس جے شنکر انڈیا کے وزیرِ خارجہ بنے تو ایک پیغام ہر طرف گیا کہ نریندر مودی انھیں خاص اہمیت دیتے ہیں۔
گذشتہ 7برس میں جے شنکر انڈیا کی خارجہ پالیسی کے اگلے محاذ پر ہی رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک سے باہر نریندر مودی کے نام کو ایک برانڈ بنانے میں میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ مودی کسی غیرملکی دورے پر ہوں اور جے شنکر ان کے ہمراہ نہ نظر آئیں۔ لیکن اس بار ایسا ہوا ہے جب نریندر مودی 29 اگست سے یکم ستمبر تک جاپان اور چین کے دورے پر گئے اور اس موقع پر جے شنکر ان کے ساتھ نہیں تھے۔
ماضی میں جے شنکر جاپان اور چین دونوں ہی ممالک میں انڈیا کے سفیر رہ چکے ہیں۔ سنہ 2009 سے 2013 تک جے شنکر چین میں انڈیا کے سفیر تھے اور اس سے قبل وہ سنہ 1996 میں جاپان میں بطور نائب سفیر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں لوگ سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ جے شنکر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیرِاعظم مودی کے ساتھ کیوں نہیں گئے؟
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










