اتوار، 30-نومبر،2025
اتوار 1447/06/09هـ (30-11-2025م)

ٹرمپ کے حامی چارلی کرک کی مبینہ قاتل گرفتار، 33 گھنٹوں میں گرفتاری کیسے ہوئی؟

12 ستمبر, 2025 21:09

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند تنظیم ٹرننگ پوائنٹ کے شریک بانی چارلی کرک کو گولی مار کر قتل کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایف بی آئی کے سربراہ کاش پٹیل اور دیگر سیکیورٹی حکام کے ساتھ ایک نیوز بریفنگ کے دوران یوٹا کے گورنر سپینسر کوکس نے اعلان کیا کہ ہم نے اس مبینہ قاتل کو گرفتار کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 سالہ ملزم ٹائلر رابنسن کے خاندان کے ایک شخص نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ٹائلر نے اعترافِ جرم کر لیا ہے، جس کے بعد اس دوست نے شیرف کے دفتر سے رابطہ کیا۔

بدھ کے روز ٹرننگ پوائنٹ کے شریک بانی چارلی کرک کو یوٹا میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

ان کی ہلاکت کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے چارلی کرک کو ایک سچا محبِ وطن کہا تھا اور ان کی ہلاکت کو امریکا کے لیے ایک تاریک لمحہ قرار دیا تھا۔

یوٹا کے گورنر سپینسر کوکس نے نیوز بریفنگ کے دوران ملزم ٹائلر کے خاندان کا شکریہ کیا جنھوں نے ان کی گرفتاری میں مدد کی۔

ان کا کہنا تھا ملزم کے خاندان نے درست قدم اُٹھایا اور انھیں سیکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر انھوں نے ٹائلر کے خاندان سے ملنے والی معلومات بھی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم چارلی کرک کو پسند نہیں کرتے تھا۔

یوٹا کے گورنر کا کہنا تھا کہ ملزم کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ ٹائلر حالیہ برسوں میں زیادہ سیاسی ہوگئے تھے۔

یوٹا لے گورنر مزید کہتے ہیں کہ ملزم کے خاندان کے فرد نے بتایا کہ 10 ستمبر سے قبل ٹائلر نے ایک رات کھانے سے قبل کہا تھا کہ چارلی کرک یوٹا ویلی یونیورسٹی آرہے ہیں اور یہ کہ وہ انھیں اور ان کے نظریات کو پسند نہیں کرتے۔

سپینسر کوکس کے مطابق ٹائلر نے اپنے خاندان کے فرد کو کہا تھا کہ چارلی کرک کے اندر نفرت بھری ہوئی ہے اور وہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔

اس موقع پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے چارلی کرک کے خاندان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی بیوہ اور بچے ملزم کو سزا دلوانے میں حکام کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔

انھوں نے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میں تمام وسائل دینے پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ہم نے چارلی کے لیے 33 گھنٹوں میں تاریخی کام کیا۔

پٹیل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں تفتیش کاروں نے 33 گھنٹوں میں تاریخی پیشرفت حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چارلی کرک کو بدھ کے روز 12 بج کر 23 منٹ پر گولی لگنے کے بعد 16 منٹ میں ابتدائی طور پر ایجنٹس جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ایف بی آئی نے خصوصی اہل کاروں اور شواہد کی منتقلی کے لیے طیارے استعمال کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ایف بی آئی نے مبینہ قاتل کی تصاویر جاری کیں اور اس کے سر کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ قاتل کو گذشتہ شب تحویل میں لیا گیا تھا۔

31 سالہ چارلی کرک کو بدھ کے روز اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ یوٹا ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ اس تقریب میں تقریباً تین ہزار افراد شریک تھے۔

حملے کے وقت وہ ایک سفید رنگ کے ٹینٹ کے نیچے بیٹھے تھے اور ان کی اہلیہ اور گھر والے بھی ان کے ساتھ موجود تھے تاہم وہ سب اس حملے میں محفوظ رہے۔

انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن چند گھنٹوں بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کی ہلاکت کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔