غزہ میں بین الاقوامی فورس میں ترک فوج نہیں ہونی چاہیے، اسرائیل کا مطالبہ
Israel demands that Turkish troops not be part of the international force in Gaza
اسرائیل نے امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں ترک فوج کی موجودگی کو قبول نہیں کرےگا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار کے مطابق جو ممالک غزہ میں اپنی فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں انھیں کم از کم اسرائیل کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اسرائیل کے خلاف دشمنی کا رویہ رکھا ہے اس لیے ہمارے لیے یہ قابل قبول نہیں اور ہم نے اپنے امریکی دوستوں کو بھی یہ بات صاف طور پر کہ دی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ کی پٹی میں امریکی فوجیوں کو بھیجنے سے انکار کیا ہے لیکن انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی فورس میں اپنا کردار ادا کریں۔
ایک اسرائیلی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ جواب دے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











