جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی؛ اسرائیلی فضائی حملے میں 46 بچوں سمیت 100 سے زائد فلسطینی شہید
اسرائیلی فورسز نے ایک بار پھر جنگ بندی کے باوجود غزہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہداء میں 46 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں۔
غزہ کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں مسلسل ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بمباری اتنی شدید تھی کہ کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔
اسرائیلی جارحیت کی مذمت
نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عالمی برادری نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ ’غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے مترادف ہے۔
حماس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ اسرائیل دانستہ طور پر انسانی بنیادوں پر طے پانے والی جنگ بندی کو ناکام بنا رہا ہے تاکہ عالمی دباؤ سے بچ سکے۔
امریکی خاموشی پر سوالات
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائی کو ’’جوابی حملہ‘‘ قرار دیا، لیکن انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ خاموشی اسرائیلی جارحیت کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔
عالمی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ اسپتالوں میں بجلی کا بحران بڑھ رہا ہے۔
انسانی تباہی کے اعداد و شمار
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 68,527 فلسطینی شہید اور 170,395 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
مغربی کنارے میں بھی کشیدگی
مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رام اللہ کے قریب فلسطینی گھروں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











