ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

افغان طالبان کی تعلیم کے خلاف دہشت گردی جاری، یونیسیف و یونیسکو نے عالمی برادری کو خبردار کر دیا

29 اکتوبر, 2025 10:09

افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں تعلیم دشمن پالیسیاں تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔

یونیسیف اور یونیسکو نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس تشویشناک صورتحال پر عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں بچوں کی تعلیم پر پابندیاں سخت ہو گئیں اور تعلیمی نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔

رپورٹ "افغانستان کی تعلیمی صورتحال 2025” میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے سادہ متن بھی نہیں پڑھ سکتے، جبکہ 2.13 ملین بچے تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اسکول جانے والے بچے بھی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں سے قاصر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان حکومت کی چار سالہ پابندی کے باعث 2.2 ملین نوجوان لڑکیاں اسکولوں سے محروم ہو چکی ہیں، اور اگر پابندی برقرار رہی تو 2030 تک تقریباً 4 ملین لڑکیاں ثانوی تعلیم سے بھی مکمل طور پر محروم ہو جائیں گی۔

اسی طرح 2019 سے 2024 کے درمیان لڑکوں کے اعلیٰ تعلیم میں داخلوں میں تقریباً 40 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں صاف پانی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جبکہ 1,000 سے زائد اسکول بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں معاشرتی اور اقتصادی سطح پر دیرپا نقصان کا باعث بنیں گی۔ تعلیم کی بندش نے نہ صرف بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ پورے افغان معاشرے کی ترقی کی رفتار کو بھی روک دیا ہے۔

یونیسیف اور یونیسکو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان عوام، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ وقت آ گیا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ کر عوام کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر توجہ دے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔