ایف-35 طیاروں کی پیشکش، امریکا کا سعودی عرب پر اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے دباؤ
ایف-35 طیاروں کی پیشکش، امریکا کا سعودی عرب پر اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے دباؤ
امریکی حکومت نے سعودی عرب کو جدید ترین ایف-35 جنگی طیارے فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ماہرین اسے خطے میں نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، یہ پیش رفت ولی عہد محمد بن سلمان کے امریکا کے مجوزہ دورے سے قبل سامنے آئی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ریاض نے رواں سال کے آغاز میں براہ راست امریکی قیادت سے جدید ایف-35 طیاروں کی خریداری کی درخواست کی تھی، جس پر پینٹاگون نے تکنیکی جانچ کے بعد اسے وزارتِ دفاع کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس دفاعی ڈیل کو سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی سمت لانے کے ایک مؤثر دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہئ، بالکل اسی طرح جیسے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ابراہام معاہدے کے موقع پر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے اس ممکنہ معاہدے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف-35 طیاروں کی فراہمی سے خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم صہیونی حکومت کی جانب سے باضابطہ مخالفت سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب اس معاملے کو صرف طیاروں کی خریداری تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ امریکہ سے ایک وسیع تر دفاعی معاہدہ چاہتا ہے، جس میں سیکیورٹی گارنٹی اور سول نیوکلیئر تعاون بھی شامل ہو۔
ادھر امریکا میں وزارتِ دفاع اور وائٹ ہاؤس دونوں نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ ایف-35 تیار کرنے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ صرف حکومتی سطح پر طے پائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










