ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

29 نومبر, 2025 10:36

یوروگوئے کے معروف بحری ماہر اور یونیورسٹی آف ریپبلک کے پروفیسر عمر ڈی فیو نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ صدی کے آخر تک دنیا کے تقریباً نصف ساحل ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی ساحلی سرگرمیوں اور انسانی مداخلت سے شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سمندر کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ساحلی کٹاؤ بڑھ گیا ہے۔ انسانی سرگرمیوں، جیسے عمارت سازی، سیاحت میں اضافہ اور مشینی صفائی کے باعث ساحلی جاندار کمزور ہو رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ وہ مقامی معیشتیں بھی خطرے میں ہیں جو ماہی گیری اور سیاحت پر چلتی ہیں۔

ڈی فیو اور ان کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں 315 ساحلی مقامات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے ایک ساحل شدید کٹاؤ کا شکار ہے۔ پروفیسر نے کہا کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو ساحلی علاقے تیزی سے ختم ہوتے جائیں گے، اس لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

ان کے مطابق ساحلی نظام تین اہم حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا حصہ وہ خشک علاقہ ہے جہاں ریت کے ٹیلے بنتے ہیں۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو کبھی پانی میں ڈوبتا ہے اور کبھی نمودار ہوتا ہے۔ تیسرا حصہ زیرِ آب وہ پورا علاقہ ہے جہاں سے لہر بنتی ہے اور ساحل کی طرف آتی ہے۔ یہ تینوں حصے ایک مکمل نظام کے طور پر کام کرتے ہیں اور قدرتی توازن برقرار رکھتے ہیں۔

ہوا ریت کو اوپر سے نیچے کی طرف لاتی ہے، جبکہ لہریں اسے دوبارہ ساحل کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ طوفان کے وقت ریت کے ٹیلے ایک قدرتی حفاظتی دیوار کا کام کرتے ہیں۔ لیکن جب انسان ان علاقوں میں زیادہ تعمیرات کرتا ہے تو یہ حفاظتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافہ، ہوا کے رخ میں تبدیلی اور لہر کے بدلتے ہوئے انداز ساحلی کٹاؤ کے بنیادی عوامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی مداخلت کم نہ کی گئی تو ساحلوں کا ختم ہونا مزید تیز ہو جائے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔