مقبوضہ جموں و کشمیر: سانحہ کٹھوعہ، معصومیت کی تذلیل اور انصاف کی ناکامی

مقبوضہ جموں و کشمیر: سانحہ کٹھوعہ، معصومیت کی تذلیل اور انصاف کی ناکامی
10 جنوری 2018 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں ایک ناقابلِ فراموش واقعہ پیش آیا جسے سانحہ کٹھوعہ کہا جاتا ہے۔ اس سانحے میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور خواتین کی عصمت دری کا واقعہ شامل تھا۔
اس دن 8 سالہ معصوم بچی بانو لاپتہ ہوئی، اور اس کی لاش 17 جنوری کو جنگلات سے برآمد کی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سرکاری تحقیقات کے مطابق بانو شدید جنسی تشدد اور قتل کا نشانہ بنی۔
عدالت میں اس کیس کے دوران بے حسی اور سفاکیت کی انتہا یہ تھی کہ جارج شیٹ کو روکنے کی کوشش کی گئی اور بھارتی سیاسی شخصیات نے کھلے عام ملوث افراد کا دفاع کیا۔ مقدمے کو دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پٹھان کوٹ منتقل کر دیا گیا۔
سانحہ کٹھوعہ ایک مسلسل ناانصافی کی علامت بنا رہا، جہاں انصاف میں تاخیر، دانستہ تنازعات اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ عدالتی سماعت کے پورے عمل میں قانونی پیچیدگیاں، عوامی احتجاج اور سیاسی مداخلت کی شکایات سامنے آتی رہیں۔
عدالتی بے حسی اور بھارتی سیاستدانوں کی ہٹ دھرمی کے باعث انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ یہ سانحہ اس بات کا عکاس ہے کہ جب کمزور اور اقلیتی طبقات کو مؤثر ریاستی تحفظ حاصل نہ ہو تو اجتماعی عدم تحفظ اور ریاستی بے حسی کی علامت بن جاتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












