ایران کے خلاف فوجی آپشن زیرِ غور ہے، صدر ٹرمپ

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے پر مختلف حکمتِ عملیوں پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی اقدام بھی شامل ہے۔ امریکا ایران کے ساتھ تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہے۔
فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی کے سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ ایرانی اپوزیشن کی بعض شخصیات سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے حوالے سے وہ ٹیکنالوجی کے ماہر اور ارب پتی کاروباری ایلون مسک سے مشاورت کریں گے، کیونکہ ان کی کمپنی اس شعبے میں غیر معمولی مہارت رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے امریکا سے رابطہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقات بھی ہو۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف سخت اقدامات، بشمول فوجی کارروائی، زیر غور ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حالیہ مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ کو مختلف عسکری آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایرانی سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے ممکنہ طریقوں پر بھی بات ہوئی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر کارروائیاں اور نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے امکانات پر غور جاری ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












