ایران کے خلاف سخت رویہ یا مذاکرات کی راہ؟ وائٹ ہاؤس میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

ایران کے خلاف سخت رویہ یا مذاکرات کی راہ؟ وائٹ ہاؤس میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافِ رائے سامنے آ گیا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سینئر حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارتی ذرائع کو آزمایا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں ایران کے خلاف مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں فوجی اقدام بھی شامل ہے۔ تاہم نائب صدر اور دیگر اعلیٰ معاونین کا ماننا ہے کہ طاقت کے استعمال سے پہلے بات چیت کے امکانات پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
ایک امریکی اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں مائل دکھائی دیتے ہیں، لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور صورتحال کے مطابق ان کے مؤقف میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔
بعض امریکی حکام کے مطابق امکان ہے کہ صدر ٹرمپ محدود نوعیت کے حملے کی منظوری دیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر بات چیت کی مبینہ پیشکش کا جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسی دوران فوجی کارروائی کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور جاری ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












