امریکا فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کر رہا ہے، ایران کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف
WebDesk
14 جنوری, 2026 09:51
امریکا فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کر رہا ہے، ایران کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکا خطے میں فوجی مداخلت کے لیے حالات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا کہ امریکا کی پالیسیاں سیاسی عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دے رہی ہیں اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان اقدامات کے ذمہ دار ہیں۔ ایرانی سفیر کے مطابق امریکا ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ شہری جان سے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا فوجی کارروائی کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے اور اس کی پالیسی کا اصل مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پابندیاں، دھمکیاں اور داخلی انتشار کو دانستہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ناکام ہو گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے بدترین مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی وینزویلا کے صدر کے اغوا پر خاموش رہا اور غزہ میں ہزاروں افراد کی ہلاکت پر بھی اس کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایسے حالات میں انسانی حقوق کے دعوے قابلِ قبول نہیں رہتے۔