ایران میں مظاہرین کے لیے سزائے موت زیر غور نہیں، وزیر خارجہ کا واضح مؤقف

ایران میں مظاہرین کے لیے سزائے موت زیر غور نہیں، وزیر خارجہ کا واضح مؤقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مظاہرین کو پھانسی دیے جانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی اقدام کا نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں سزائے موت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں، پھانسیوں سے متعلق قیاس آرائیاں محض افواہیں ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق ایران میں حالیہ دنوں میں عوامی ردعمل بنیادی طور پر معاشی مسائل کے باعث سامنے آیا، جہاں ابتدائی دس دن تک احتجاج پُرامن رہا۔ اس کے بعد چند دن تشدد دیکھنے میں آیا، جس کے پیچھے بیرونی قوتوں خصوصاً اسرائیل کا ہاتھ تھا۔
عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران بعض عناصر کو بیرون ملک سے ہدایات مل رہی تھیں، اور ان میں شامل افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، دہشتگرد تنظیم داعش جیسے طریقے اپنائے اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں نے صورتحال کو کنٹرول کر لیا ہے اور اب ملک میں امن و امان بحال ہو چکا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










