سفیروں کی اسنادِ سفارت پیش کرنے کی تقریب میں صدر پوتن کی تقریر سے اقتباسات

روس پاکستان تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں، پیوٹن
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ آج کی متنوع اور باہم مربوط دنیا میں عالمی استحکام اور سلامتی کا براہِ راست انحصار ریاستوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ کس حد تک تعمیری انداز میں باہمی تعامل کر سکتی ہیں۔ شفاف اور دیانت پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔
امن خود بخود قائم نہیں ہوتا، بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے ، اور یہ ایک نہایت محنت طلب عمل ہے۔ امن کے حصول کے لیے مسلسل کوشش، ذمہ داری کا احساس اور شعوری فیصلے کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں یہ بات مزید اہم ہو گئی ہے کیونکہ عالمی ماحول بتدریج خراب ہو رہا ہے؛ پرانے تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ کشیدگی کے نئے اور سنگین محاذ بھی کھل رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یکطرفہ اور خطرناک اقدامات اکثر سفارت کاری، مفاہمت اور ایسے حل تلاش کرنے کی کوششوں کی جگہ لے رہے ہیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ ریاستوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے بجائے بعض عناصر "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کے اصول پر چلتے ہوئے اپنا یکطرفہ بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دوسروں کو یہ بتاتے ہیں کہ انہیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے، اور احکامات صادر کرتے ہیں۔
دنیا بھر کے درجنوں ممالک اپنے خودمختار حقوق کی پامالی، افراتفری اور لاقانونیت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے نہ مطلوبہ قوت ہے اور نہ ہی وسائل۔
ایک معقول اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ عالمی برادری کے تمام اراکین بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور نئے عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کی راہ ہموار کریں۔
میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ روس کثیر قطبی دنیا کے نظریے سے مخلصانہ وابستگی رکھتا ہے اور ہمیشہ سے ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی اختیار کرتا آیا ہے، جو قومی مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ترقی کے معروضی رجحانات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔
روس عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی اور مرکزی کردار کو مزید مضبوط بنانے کی وکالت کرتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے گزشتہ برس اپنی سالگرہ منائی ہے۔
کسی ایک ملک کی قومی سلامتی کو دوسرے ملک کی قومی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی سلامتی کو حقیقی معنوں میں جامع، مساوی اور باہم مربوط ہونا چاہیے، اور یہ اصول بین الاقوامی قانون کی بنیادی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے۔
اس بنیادی اور اہم اصول کو نظرانداز کرنے سے نہ کبھی کوئی اچھا نتیجہ نکلا ہے اور نہ آئندہ نکلے گا۔ اس کی واضح مثال یوکرین کے بحران کی صورتِ حال ہے، جو برسوں تک روس کے جائز مفادات کو نظرانداز کرنے اور روس کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کی دانستہ پالیسی کے براہِ راست نتیجے کے طور پر سامنے آئی۔ اس میں نیٹو بلاک کی روسی سرحدوں کی جانب پیش قدمی بھی شامل ہے، جو روس سے کی گئی اعلانیہ یقین دہانیوں کے برخلاف تھی۔
روس عالمی فلاح و بہبود اور ترقی کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعمیری تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار اور آمادہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











