ایران کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہوگی لیکن جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے: ٹرمپ

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں تو امریکا کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ایران کے خلاف مزید کسی فوجی اقدام کا ارادہ نہیں ہے۔
امریکی میڈیا چینل سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو واضح طور پر پیغام دے دیا گیا ہے کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکا پہلے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنا چکا ہے جس کے نتیجے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اس وقت کارروائی نہ کرتا تو ایران دو ماہ کے اندر اندر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ جاتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائی نے خطے میں ایک بڑے خطرے کو ٹال دیا اور عالمی سلامتی کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش مکمل طور پر ترک کر دینی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران کے خلاف مزید کسی فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، بشرطیکہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں اس وقت حالات خراب تھے اور سڑکوں پر لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے سخت موقف اور ممکنہ فوجی ردعمل کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ بھی ترک کر دیا۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات آنے والے دنوں میں مزید حساس ہو سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












