امریکی جنگی بحری جہاز ایران کے لیے نہایت پرکشش اہداف قرار

US warships declared highly attractive targets for Iran
فاکس نیوز کے مطابق ایران کے جنگی ڈرونز کا بیک وقت اور بڑے پیمانے پر حملہ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز لِنکن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یہ تجزیہ ٹرمپ کے حامیوں کے زیرِ انتظام فاکس نیوز کی ویب سائٹ نے دفاعی ماہرین کے حوالے سے شائع کیا، جس میں “امریکی بحری بیڑے کی کمزوریاں” بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران مربوط انداز میں بڑی تعداد میں ڈرونز فوجی جہازوں کی جانب داغ سکتا ہے اور سیرابی (Saturation) حملوں کے ذریعے روایتی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔
اگر قلیل وقت میں سیکڑوں ڈرونز لانچ کیے جائیں تو تقریباً یقینی ہے کہ ان میں سے کچھ بحری جہازوں کے دفاعی حصار کو توڑ لیں گے۔ ایران کی اصل طاقت کم لاگت اور کثیر تعداد والے ڈرون نظام میں ہے، خاص طور پر خودکش ڈرونز جو ہدف سے ٹکرانے اور دھماکے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
جدید دفاعی نظام ایسے سیرابی حملوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے گئے۔ اسی لیے امریکی بحری جہاز ایران کے لیے نہایت پرکشش اہداف سمجھے جاتے ہیں۔
دوسری جانب صہیونی جریدے وائی نیٹ نے لکھا کہ ایران کے صرف ایک میزائل نے اسرائیل کے شہر بت یام میں 27 عمارتیں تباہ کر دیں۔ صہیونی میڈیا کارکن منوشے امیر نے اعتراف کیا کہ ہم نے دیکھا کہ ایران نے 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کو کیسے ضرب لگائی۔ ایران کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں جھونک دے، آبنائے ہرمز بند کر دے، خلیجِ فارس میں بارودی سرنگیں بچھا دے، اسرائیل کو تباہ کرے اور تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے۔ وہ ناقابلِ تردید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
عبرانی ویب سائٹ srugim کے ایک تجزیے میں لکھا گیا ہے کہ ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دی ہے: “جواب پہلے سے زیادہ سخت اور دردناک ہوگا۔”
رپورٹ کے مطابق چین سے بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان ایران آیا ہے، اور وسطی ایران میں لانچرز اور میزائلوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔ غالباً اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکہ حملے کے قریب ہے، اسی لیے ایران مسلسل دھمکی آمیز پیغامات دے رہا ہے۔
ایران نے خلیجِ فارس کے اوپر پرواز کرتے اپنے جاسوسی ڈرونز کی تصاویر جاری کیں اور خبردار کیا کہ “جو ہوا بوئے گا، وہ طوفان کاٹے گا۔”
اس کے علاوہ عراق اور یمن میں ایران کے قریبی گروہوں نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ اسرائیل اور امریکہ کو سخت اور دردناک ضربیں لگائیں گے۔
امریکی صدر جارج بش کے دور میں نائب وزیرِ خارجہ رہنے والے بریگیڈیئر جنرل مارک کیمِٹ نے بھی کہا کہ امریکی اڈے ایران کی میزائل صلاحیتوں کے سامنے کمزور ہیں۔ جبکہ صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی تعیناتی کا ممکنہ مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے، نہ کہ براہِ راست فوجی حملہ۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











