جمعہ، 6-فروری،2026
جمعہ 1447/08/18هـ (06-02-2026م)

آئینی نظام پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، کیوبا کی واشنگٹن مذاکرات کی مشروط پیشکش

06 فروری, 2026 16:32

کیوبا کے نائب وزیر خارجہ کارلوس فرنانڈیز ڈی کوسیو نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ کیوبا امریکہ کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم ایسی کسی گفتگو کا حصہ نہیں بنے گا جس میں کیوبا کے اندر حکومت کی تبدیلی یا اس کے آئینی و سیاسی نظام پر بحث شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا اپنے آئینی ڈھانچے، سیاسی نظام اور اقتصادی حقیقت پر کسی قسم کی بیرونی بحث کے لیے آمادہ نہیں کیونکہ امریکہ خود بھی اپنے نظام پر اسی نوعیت کی گفتگو کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

ڈی کوسیو نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ دو طرفہ مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے، البتہ اعلیٰ سطح پر کچھ پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ کیوبا امریکہ کے لیے کسی قسم کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق کیوبا نہ تو امریکہ کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور نہ ہی کسی دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کیوبا دہشت گردی کی نہ حمایت کرتا ہے اور نہ ہی دہشت گرد عناصر کو پناہ دیتا ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی میں کمی لائے کیونکہ اس کے اثرات کیوبا کی معیشت اور عوام پر گہرے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی شدید کمی کے باعث کیوبا کو کفایت شعاری کے اقدامات پر غور کرنا پڑ رہا ہے اور موجودہ صورتحال معاشی جبر کے لحاظ سے جنگ جیسی کیفیت اختیار کر چکی ہے۔

ڈی کوسیو کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری امریکہ کے لیے دباؤ اور پابندیوں سے کہیں بہتر متبادل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا ایسے موضوعات پر بات چیت کے لیے تیار ہے جن سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو، خاص طور پر علاقائی سلامتی کے معاملات میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون چاہتا ہے تو کیوبا اس ضمن میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا ماضی میں بھی اس شعبے میں تعاون کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔