مذاکرات کا آغاز اچھا رہا، مگر واشنگٹن اپنا لہجہ اور رویہ بدلے : ایرانی وزیر خارجہ

عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کو ایرانی حکام نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا آغاز “اچھا” رہا اور آئندہ مراحل کے بارے میں فیصلہ متعلقہ دارالحکومتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ سفارت کاری کے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن اپنا لہجہ اور رویہ بدلے، کیونکہ امریکی بیانات میں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں نمایاں رہی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی مکالمے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں سے گریز ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران صرف اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر بات کرے گا، جوہری پروگرام ہی مذاکرات کا واحد محور ہے۔ ایران کے جوہری مراکز پر حملوں کے باعث اعتماد کی فضا متاثر ہوئی ہے، جبکہ اس وقت بھی اسی نوعیت کے مذاکرات کا ایک اور دور طے پایا جا رہا تھا۔
مسقط میں ہونے والے ان بالواسطہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی نے کی، جبکہ امریکی وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ خطے میں امریکی مرکزی کمان کے سربراہ بریڈ کوپر بھی امریکی ٹیم کا حصہ تھے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے دونوں فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور دونوں فریقن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے ایرانی اور امریکی مؤقف کو واضح کرنے اور ممکنہ پیش رفت کے نکات کی نشاندہی میں مدد ملی ہے۔
عمانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق مشاورت کا محور ایسے موزوں حالات پیدا کرنا تھا، جن کے تحت سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھایا جا سکے، اور جلد ہی مذاکرات کے اگلے دور کی کوشش کی جائے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












