غزہ میں ادویات کی شدید قلت، پانی، صفائی اور خوراک کا شدید بحران

غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود خوراک، صحت، پانی اور صفائی ستھرائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے ٹیلی گرام پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ کام کرنے والے اسپتالوں کی محدود تعداد ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کے لیے محض انتظار گاہ بن کر رہ گئی ہے جو کہ ایک غیر یقینی قسمت کا سامنا کر رہے ہیں۔ 46 فیصد ضروری ادویات اسٹاک سے باہر ہیں، 66 فیصد طبی سامان بھی ختم ہے، اور 84 فیصد لیبارٹری اور بلڈ بینک کی سپلائی ختم ہو چکی ہے۔
صاف پانی کی دستیابی انتہائی محدود ہو چکی ہے اور فلسطینیوں کو پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ لوگ ہر بوند کو احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور اگلے واٹر ٹرک کے انتظار میں رہتے ہیں۔
خوراک کے لیے بھی بیشتر خاندان امدادی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ لوگ برتن اور تھیلے اٹھائے چاول حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے چار ماہ بعد بھی یہ امدادی کچن ہزاروں افراد کے لیے زندگی کی ڈور بنے ہوئے ہیں۔
شہریوں کو پانی بھرنے کے لیئے صبح پانچ بجے سے قطار میں لگنا پڑتا ہے، دو یا تین گیلن پانی بھرنے میں تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ کپڑے دھونے کے لیئے مجبوراً کھارے پانی کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ادھر عالمی بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی تقریباً 81 فیصد سڑکیں تباہ یا ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ کے بنیادی نظام معطل ہو چکے ہیں۔ کئی سڑکیں ملبے سے بند ہیں اور کئی مقامات پر موٹر گاڑیوں کی آمدورفت ممکن ہی نہیں رہی۔ باقی کسر ایندھن کی قلت نے پوری کردی، جس کے باعث شہری اب آمدورفت کے لیئے سائیکل کا استعمال کر رہے ہیں۔ اگر کسی کے پاس سائیکل نہ ہو تو وہ تقریباً محصور ہو کر رہ جاتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










