ہانگ کانگ کے 78 سالہ میڈیا ٹائیکون کو 20 سال قید کی سزا

ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ٹائیکون جمی لائی کو قومی سلامتی کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے، جس کے ساتھ ان کے خلاف برسوں سے جاری قانونی جنگ اپنے انجام کو پہنچی۔ دسمبر میں طویل عدالتی کارروائی کے بعد جمی لائی کو قومی سلامتی سے متعلق دو الزامات اور ایک بغاوت (سیڈیشن) کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔
78 سالہ ارب پتی جمی لائی 90 سال کی عمر تک پیرول کے اہل نہیں ہوں گے۔ عدالتی تفصیلی فیصلے میں ججوں نے ان کے اقدامات کو ایسی سازشیں قرار دیا جو نہ صرف باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تھیں بلکہ پیشگی سوچ بچار کے ساتھ کی گئی تھیں تاکہ مقامی اور بیرونِ ملک دونوں سامعین تک پیغام پہنچایا جا سکے۔
فیصلے کے مطابق جمی لائی نے بغاوت کے انتہائی سنگین درجے کا ارتکاب کیا، کیونکہ اس میں شائع ہونے والے مضامین کی تعداد اور جرم کے تسلسل کا دورانیہ غیر معمولی تھا۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ایپل ڈیلی نے مبینہ طور پر 161 تک بغاوت پر اکسانے والے مضامین شائع کیے تھے۔
جمی لائی کو فیصلے اور سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم یہ عمل عموماً برسوں تک چلتا ہے اور کامیابی کی شرح نہایت کم ہے۔ قومی سلامتی قانون کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والے تقریباً ہر 100 میں سے صرف ایک شخص کو ہی مکمل بریت نصیب ہوئی ہے۔
لائی کے بیٹے سیبسٹین نے اس سزا کو ظالمانہ اور اپنے والد کی جان کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ ان کی بیٹی کلیئر نے اسے دل توڑ دینے والی سفاکی کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے والد کی صحت کو تیزی سے گرتے دیکھا ہے اور جن حالات میں انہیں رکھا گیا ہے وہ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ سزا نافذ کی گئی تو وہ سلاخوں کے پیچھے ایک شہید کی طرح جان دے دیں گے۔
ہانگ کانگ کے سربراہ جان لی، جو سابق پولیس افسر اور سیکیورٹی چیف رہ چکے ہیں، کا کہنا تھا کہ جمی لائی نے ایپل ڈیلی کو شہریوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے، نفرت بھڑکانے، حقائق کو مسخ کرنے، دانستہ طور پر سماجی تقسیم پیدا کرنے، تشدد کی تمجید کرنے اور کھلے عام بیرونی قوتوں سے چین اور ہانگ کانگ پر پابندیاں لگانے کی اپیل کے لیے استعمال کیا۔
جمی لائی کے ساتھ کام کرنے والے کئی ساتھی بھی قید کی سزائیں پا چکے ہیں، جن کی مدت 6 سال 9 ماہ سے لے کر 10 سال تک ہے۔ ایپل ڈیلی اور اس سے منسلک کمپنیوں پر 60 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر (7 لاکھ 67 ہزار امریکی ڈالر) جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
یہ مقدمہ مغربی دنیا کے رہنماؤں کی گہری توجہ کا مرکز بنا رہا، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، جنہوں نے پہلے انہیں رہائی دلانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
بیجنگ اور ہانگ کانگ کی حکومتیں جمی لائی کے خلاف کارروائی پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہیں اور ان الزامات کو رد کرتی آئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمی لائی کو جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










