بنگلہ دیش انتخابات : بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ، جین زی ووٹ اہم قرار

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے طویل دورِ حکومت کے بعد ہونے والے انتخابات کو 2009 کے بعد پہلا حقیقی مقابلے والا انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی لیگ پر پابندی کے بعد سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو برتری حاصل دکھائی دے رہی ہے، تاہم جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد بھی زبردست ٹکر دیتے نظر آرہا ہے۔ جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کارکن اس انتخابی فضاء میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور ووٹرز کا بڑا حصہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا۔
ماہرین شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والے جین زیز کے ووٹ کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ اگر بی این پی کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ تاثر ابھر کر سامنے آئے گا کہ عوام اب تک موروثی سیاست سے باہر نہ آسکی ہے۔
سروے کے مطابق بدعنوانی اور مہنگائی ووٹرز کے اہم ترین مسائل ہیں۔ جماعت اسلامی کی صاف شفاف شبیہ اس کے حق میں جا رہی ہے جبکہ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابی نتائج بنگلہ دیش میں چین اور بھارت کے اثر و رسوخ پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ شیخ حسینہ کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا، جبکہ ان کی معزولی کے بعد بھارت کا کردار کم، جبکہ چین کا بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









