منگل، 10-فروری،2026
منگل 1447/08/22هـ (10-02-2026م)

چین اور پاکستان کے تناظر میں بھارتی فضائیہ کی کمزور ہوتی اسکواڈرن طاقت

10 فروری, 2026 10:26

لندن : بین الاقوامی دفاعی تحقیقی ادارے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت بالآخر اُس معاہدے کے قریب دکھائی دے رہی ہے، جو دراصل بھارتی فضائیہ کی طویل عرصے سے زیر التوا میڈیم ملٹی رول کمبیٹ ایئرکرافٹ (MMRCA) ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ فرانس کی کمپنی داسو (Dassault) کے ساتھ 114 تک رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔

اسی دوران دہلی اپنی ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئرکرافٹ (AMCA) منصوبے کو بھی آگے بڑھانے کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ دونوں پروگرام اس صدی کی پہلی دہائی کے اختتام سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی پیش رفت انتہائی سست رہی ہے۔ اس دوران بھارتی فضائیہ کی اسکواڈرن طاقت مسلسل اپنے مقررہ ہدف 42 اسکواڈرن سے کم ہو کر خطرناک حد تک نیچے آ چکی ہے۔

دی ملٹری بیلنس پلس کے مطابق اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس صرف 29 لڑاکا اور گراؤنڈ اٹیک اسکواڈرن موجود ہیں۔ 2012 میں داسو کو 126 طیاروں کے ایم ایم آر سی اے پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا تھا، مگر قیمتوں کے تنازع کے باعث یہ خریداری 2014 میں روک دی گئی۔ بعد ازاں بھارت نے 2016 میں صرف 36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا، جو 2020 میں سروس میں شامل ہوئے۔

دوسری جانب روس ایک بار پھر بھارت کو سخوئی Su-57 Felon طیارے میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماسکو اور دہلی کے درمیان اس منصوبے پر تقریباً دو دہائیاں قبل بات چیت شروع ہوئی تھی، تاہم بھارت 2018 میں پیچھے ہٹ گیا۔

بھارتی فضائیہ کی اسکواڈرن طاقت کا ہدف دراصل چین اور پاکستان سے درپیش چیلنجز کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا۔ مئی 2025 میں پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے درمیان ہونے والے فضائی مقابلوں نے اس صورتحال کو مزید واضح کر دیا۔ چین کے پاس اس وقت 300 سے زائد چینگدو J-20 ہیوی فائٹر طیارے موجود ہیں جبکہ شین یانگ J-35 کی تعیناتی بھی شروع ہو چکی ہے۔ ان طیاروں میں ریڈار سے بچاؤ کی جدید خصوصیات موجود ہیں، جبکہ مزید جدید طیاروں J-36 اور J-50 کی آزمائشی پروازیں جاری ہیں۔

اسی طرح پاک فضائیہ نے چین کے J-10C طیاروں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے پی ایل 15 میزائلوں سے لیس کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی، بھارتی رافیل طیاروں کو بھی فضاء میں مار گرایا گیا، جو ممکنہ طور پر 140 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر پی ایل 15 میزائل کی زد میں آیا۔

چین کے مقابلے میں بھارت کے مقامی جنگی طیارہ منصوبے خاصے پیچھے ہیں۔ اس وقت بھارتی فضائیہ کے دو سب سے مؤثر طیارے رافیل اور روسی ساختہ سخوئی Su-30MKI ہیں، جن کی تعداد 261 ہے۔

بھارت کا اہم مقامی منصوبہ لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) جسے فضائیہ میں تیجس کہا جاتا ہے، اپنی متوقع مدت سے تقریباً دو دہائیاں تاخیر کا شکار رہا۔ اس منصوبے کو 1983 میں حکومتی منظوری ملی، مگر پہلا سیریز پروڈکشن طیارہ 2015 میں فضائیہ کے حوالے کیا گیا، جبکہ اصل ہدف 1990 کی دہائی کے آخر کا تھا۔

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ اب بھی تیجس طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کا شکار ہے۔ 2010 میں آرڈر کیے گئے دو نشستوں والے ایف او سی مک A1 طیاروں کی فراہمی اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔ 2021 میں آرڈر کیے گئے 73 جدید مک A1 طیاروں کی فراہمی بھی تاخیر کا شکار ہے۔ فروری 2026 تک فضائیہ کو ایک بھی طیارہ موصول نہیں ہوا۔

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے مطابق مک A1 5 طیارے فراہمی کے لیے تیار ہیں جبکہ مزید 9 طیارے GE F404 انجنوں کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ ستمبر 2025 میں بھارتی وزارت دفاع نے مزید 97 مک A1 طیاروں کا آرڈر دیا، جن میں اسرائیلی ریڈار کے بجائے مقامی اُتّم ریڈار نصب کیا جائے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔