ایرانی میزائلوں کی رینج نے امریکی فوجی اڈوں کی سلامتی پر سوالات اٹھا دیئے

پیرس : مشرقِ وسطیٰ میں موجود تقریباً تمام امریکی فوجی اڈے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی براہِ راست رینج میں آ چکے ہیں، جس سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے جاری کردہ ایک نقشے اور رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس مختلف فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی یورپ کے بعض حصوں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خرم شہر اور سجیل ایران کے طویل ترین فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں جن کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک ہے اور ان کی زد میں یونان، قبرص اور مصر جیسے ممالک بھی آتے ہیں، اسی طرح عماد اور قدر ون میزائلوں کی رینج تقریباً سترہ سو کلومیٹر ہے جبکہ قدر ون کے بعض ورژنز کی رینج سولہ سو سے لے کر انیس سو پچاس کلومیٹر تک بتائی گئی ہے، جو پورے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
فتاح ون، حاج قاسم اور خیبر شکن میزائل تقریباً چودہ سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کے ذریعے عراق، اردن اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو باآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ایک ہزار کلومیٹر رینج رکھنے والا دزفول میزائل خلیج فارس کے اطراف موجود امریکی اڈوں کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے اور انفراسٹرکچر، جہاں ہزاروں امریکی اہلکار تعینات ہیں، براہِ راست ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہیں، خاص طور پر خلیج فارس میں موجود امریکی بحری اور فضائی مراکز کو ان میزائلوں کے لیے نسبتاً آسان اہداف قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میزائلوں کی رینج دھماکہ خیز مواد کے وزن کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے تاہم موجودہ صلاحیتیں ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش ناک ہیں۔
واضح رہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اور امریکی محکمہ دفاع جیسے معتبر اداروں کے اعداد و شمار سے مدد لی گئی ہے، جو اس تجزیے کی اہمیت اور سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










