جیفری ایپسٹین اپنے ڈی این اے کے ذریعے اعلیٰ نسل پیدا کرنا چاہتا تھا : نیویارک ٹائمز

نیویارک: معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین اپنے ڈی این اے کے ذریعے ایک مبینہ طور پر “اعلیٰ نسل” پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایپسٹین چاہتا تھا کہ وہ بیک وقت تقریباً 20 خواتین کو حاملہ کرے تاکہ اپنی جینیاتی میراث کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جا سکے۔
اخبار کے مطابق دستیاب دستاویزات اور ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کے ذہن میں انسانی جینیات سے متعلق غیر معمولی اور متنازعہ خیالات موجود تھے، جن پر وہ سنجیدگی سے غور کر رہا تھا۔ ایپسٹین کا تصور یہ تھا کہ اپنی اولاد کی بڑی تعداد پیدا کر کے وہ اپنی جینیاتی خصوصیات کو وسیع پیمانے پر منتقل کرے۔ اس سلسلے میں اس نے بیک وقت متعدد خواتین کو حاملہ کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا۔
دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ ایپسٹین نے اپنی کھوپڑی اور جنسی اعضا کو منجمد کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ مستقبل میں انہیں کسی ممکنہ سائنسی یا جینیاتی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ یہ پہلو اس کی کرایونکس میں دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں انسانی جسم یا اعضا کو انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایپسٹین کئی ممتاز سائنس دانوں، ماہرینِ تعلیم اور تحقیقی شخصیات سے رابطے میں تھا۔ وہ جینیاتی تبدیلی، لافانیت اور مستقبل کی بائیو ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر گہری دلچسپی رکھتا تھا اور ان شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نہ صرف ان نظریات میں دلچسپی رکھتا تھا بلکہ ان پر عملی سطح پر غور و فکر بھی کر رہا تھا۔ اس کے خیالات میں انسانی جینیات کو کنٹرول کر کے مستقبل کی نسلوں کو متاثر کرنے جیسے تصورات شامل تھے، جو سائنسی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے انتہائی متنازعہ سمجھے جاتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









