تاج محل کو مندر ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش، نیویارک ٹائمز نے کھری کھری سنادی

کراچی : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھارت کے سیکولر ملک کے دعوے کو مزید کھوکھلا کردیا۔ رپورٹ کے مطابق تاج محل، جو صدیوں سے محبت کی عظیم علامت اور بھارت کی عالمی شناخت کے طور پر جانا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں ایک بار پھر شدید بحث و تنازع کی زد میں ہے، جہاں ایک پرانا مگر مسلسل ابھرتا ہوا سازشی نظریہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سفید سنگِ مرمر کی یہ یادگار درحقیقت وہ نہیں جو تاریخ کی کتابوں میں بیان کی جاتی ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسی ’چھپی ہوئی حقیقت‘ موجود ہے جسے جان بوجھ کر عوام سے مخفی رکھا گیا۔
یہی دعویٰ حال ہی میں اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بالی وڈ کی فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ منظرِ عام پر آئی، جس میں اداکار پریش راول کی موجودگی اور عدالتی ڈرامے کے انداز میں پیش کی گئی کہانی نے ان نظریات کو انٹرنیٹ کے حاشیوں سے نکال کر مرکزی عوامی مباحثے میں لا کھڑا کیا۔
یہ فلم تاریخی تحقیق کے بجائے جذباتی بیانیے اور فکشن کے امتزاج کے ذریعے شکوک و شبہات کو ہوا دیتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے 1991 کی امریکی فلم ’’جے ایف کے‘‘ نے سازشی نظریات کو نئی زندگی دی تھی، تاہم تاج محل سے متعلق ان دعووں کی فکری بنیاد 1965 میں وکیل اور متنازع مصنف پی این اوک کی کتاب سے جا ملتی ہے، جنہوں نے نہ صرف تاج محل کو مغل دور سے قبل کا ایک ہندو محل اور بعد ازاں شیو مندر قرار دیا بلکہ ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا اور خانہ کعبہ تک کو قدیم ہندو مندروں سے جوڑنے جیسے انتہائی دعوے بھی کیے، جنہیں سنجیدہ تاریخ دانوں نے واضح طور پر جھوٹی تاریخ اور غیر سائنسی مفروضات قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اوک نے ایک لکڑی کے دروازے کی کاربن ڈیٹنگ کی بنیاد پر عمارت کی قدامت ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر ان کے نتائج کو کبھی مستند علمی حلقوں میں قبولیت نہیں ملی۔
اس تمام بحث میں سب سے زیادہ توجہ تاج محل کے نچلے حصے میں موجود مبینہ 22 خفیہ کمروں پر مرکوز رہی، جن کے بارے میں سازشی بیانیے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہاں ہندو مذہبی علامات یا بت چھپائے گئے ہیں، اگرچہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے 2022 میں ان کمروں کی تصاویر جاری کر کے ان افواہوں کو رد کرنے کی کوشش کی، مگر بعد میں ان تصاویر کا ویب سائٹ سے ہٹایا جانا اور ادارے کی خاموشی نے شکوک کو مزید تقویت دی۔
دوسری جانب ماہرینِ فنِ تعمیر اور تجربہ کار ٹور گائیڈز، جن میں دہائیوں سے تاج محل کی رہنمائی کرنے والے شمس الدین خان بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تاج محل میں اسلامی محرابوں کے ساتھ کمل کے پھول یا دیگر مقامی علامات کی موجودگی کسی مندر پر قبضے کا ثبوت نہیں بلکہ مغل دور کی انڈو۔اسلامک تہذیبی ہم آہنگی کی عکاس ہے، جہاں مقامی ثقافتی عناصر کو فن میں سمویا جاتا تھا۔
عدالتی سطح پر بھی ان دعوؤں کو بارہا جانچا جا چکا ہے، لیکن کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکا، چنانچہ 2022 میں بھارتی سپریم کورٹ نے تاج محل کی اصل حیثیت کی تحقیقات سے متعلق درخواست کو بنیاد نہ ہونے پر مسترد کر دیا، جبکہ 2024 میں ایک اور اپیل بھی خارج کر دی گئی، جس میں اسے صرف اسلامی مذہبی مقام قرار دینے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا، اس کے برعکس شاہ جہاں کے دور کے ہم عصر مورخین کی تحریریں تاج محل کی تعمیر، اخراجات اور معماروں کی تفصیل فراہم کرتی ہیں، جو ان جدید دعوؤں کو تاریخی طور پر بے بنیاد ثابت کرتی ہیں۔
تاریخ دان روچیکا شرما کے مطابق اس نوعیت کے نظریات اور فلمیں دراصل فرقہ وارانہ زہر کا کام کرتی ہیں، جن کا مقصد ماضی کو مسخ کر کے حال کی سیاست کو تقویت دینا ہے، اور وہ خبردار کرتی ہیں کہ تاریخ کو اس انداز میں استعمال کرنے کے نتائج ایودھیا جیسے سانحات کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں، یوں تاج محل کے گرد جاری یہ بحث محض ایک عمارت کی ملکیت یا اصل تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا برصغیر اپنی مشترکہ، متنوع اور پیچیدہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں قبول کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










