مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ: امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید وسعت دینے کے سکیورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلے پر امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور متعدد مسلم ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ عالمی رہنماؤں اور اداروں نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے منافی اور دو ریاستی حل کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو محفوظ رکھتا ہے اور یہ خطے میں امن کے امریکی ہدف سے مطابقت رکھتا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی انتظامی اور قانونی اختیار مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے اسرائیلی آبادکاروں کے لیے نئی بستیوں کے قیام اور زمین کے حصول کو آسان بنایا جا رہا ہے، جسے عالمی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت نے جاری بیان میں اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی جغرافیائی یا آبادیاتی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی۔ لندن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ فیصلے واپس لے۔
یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے اس اقدام کو غلط سمت میں ایک اور قدم قرار دیا۔ اسپین کی وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور غزہ میں جاری جنگ بندی اور امن منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسپین نے اسرائیل سے بطور قابض طاقت چوتھے جنیوا کنونشن کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی اقدامات کو عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق یہ اقدامات دو ریاستی حل کی امیدوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
آٹھ مسلم اکثریتی ممالک مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی خودمختاری مسلط کرنے اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوشش ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں ایک نیا قانونی و انتظامی ڈھانچہ نافذ کر کے غیر قانونی الحاق کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
ان فیصلوں کے تحت الخلیل (ہیبرون) جیسے بڑے شہر میں تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی سے لے کر اسرائیلی حکام کو منتقل کیا جا رہا ہے، جو اس علاقے میں فلسطینی انتظامی ڈھانچے کو مزید کمزور کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیل پر عالمی سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، اسپین، اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کی مشترکہ تنقید نے اس معاملے کو ایک بڑے بین الاقوامی سفارتی تنازع کی شکل دے دی ہے۔
عالمی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے میں امن کی کوششیں، جنگ بندی اور دو ریاستی حل کے امکانات بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











