بدھ، 11-فروری،2026
بدھ 1447/08/23هـ (11-02-2026م)

امریکہ کا بنگلہ دیشی گارمنٹس پر صفر ٹیرف، بھارت کو بڑی پریشانی کا سامنا

11 فروری, 2026 09:13

امریکہ نے بھارتی گارمنٹس اور اپیرل پر 18 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جبکہ بنگلہ دیشی گارمنٹس پر بظاہر 19 فیصد ٹیرف برقرار ہے، مگر اس کے ساتھ ایک ایسی رعایت شامل کی گئی ہے، جو صورتِ حال کو یکسر بدل دیتی ہے۔

اس رعایت کے تحت اگر بنگلہ دیش میں تیار ہونے والے گارمنٹس امریکی کپاس اور مین میڈ فائبرز سے بنے ہوں تو انہیں امریکی منڈی میں صفر فیصد ڈیوٹی کے ساتھ داخلے کی اجازت ہوگی۔

اس شق کا عملی مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل صنعت کو امریکی کپاس استعمال کرنے کی واضح ترغیب ملتی ہے تاکہ وہ زیرو ڈیوٹی کا فائدہ حاصل کر سکے۔

بنگلہ دیش اس وقت بھارتی کپاس کا ایک بڑا خریدار ہے، لیکن اس نئی تجارتی سہولت کے بعد امکان ہے کہ وہ بھارتی کپاس کے بجائے امریکی کپاس کی طرف منتقل ہو جائے۔

یہ صورتحال بھارت کے لیے دوہرے نقصان کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ایک طرف بھارتی کپاس کے کسان اور یارن بنانے والے متاثر ہوں گے اور دوسری طرف بھارتی گارمنٹس برآمد کنندگان کی مسابقت مزید کمزور پڑ جائے گی۔

بھارت پہلے ہی عالمی منڈی میں گارمنٹس کی برآمدات کے معاملے میں بنگلہ دیش کا بڑا حریف ہے، اور زیرو ڈیوٹی کی سہولت بنگلہ دیشی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں نمایاں برتری دے سکتی ہے۔

ترپور، سورت اور پانی پت جیسے بڑے ٹیکسٹائل مراکز کو امریکی منڈی میں 18 فیصد ٹیرف کے باعث مشکلات کا سامنا ہوگا جبکہ بنگلہ دیش کو کپاس اور یارن کی فروخت میں کمی کا خدشہ بھی پیدا ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ تجارتی بندوبست بھارتی ٹیکسٹائل صنعت کو کمزور کر سکتا ہے اور اس شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

پالیسی ماہر علی کے چشتی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے اس ٹیکسٹائل معاہدے میں صفر ٹیرف صرف ان گارمنٹس پر لاگو ہوگا، جو امریکی کپاس سے تیار ہوں گے، تمام برآمدات پر نہیں، تاہم اس سے خام مال کی خریداری کے رجحانات تبدیل ہو سکتے ہیں اور بھارتی ٹیکسٹائل و کسانوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔