ہندوتوا سیاست کے سائے میں اقلیتیں، امریکی کمیشن کی بھارت سے متعلق سخت رپورٹ

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مذہبی آزادی کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔
کمیشن کے مطابق موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں ہندوتوا نظریے کو ایک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے اثرات اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں، پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف ہجوم کی صورت میں تشدد، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی بنیادوں پر ہراسانی جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔
کمیشن کے مطابق رواں سال کے آغاز سے ہی بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی ایک مثال ریاست اوڑیسہ میں ایک پادری پر ہونے والا مبینہ تشدد ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتی افراد کو غیر قانونی حراست میں لینے اور ان پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
کمیشن نے اتر پردیش میں ایک گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعے کو بھی مذہبی آزادی کی صورتحال کی ایک مثال قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نفرت پر مبنی پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے نظریاتی اثر کے تحت موجودہ حکومت اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی منظم کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










