ریاست منی پور میں حالات کشیدہ، بھارتی فوج کی فائرنگ سے 35 سے زائد افراد ہلاک

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور شدید بدامنی، نسلی تصادم اور ریاستی جبر کی ایک خطرناک مثال بنتی جا رہی ہے، جہاں کوکی قبائل اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپوں، فائرنگ، گھروں کی تباہی اور 35 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع اُکھرول میں بھارتی مرکزی فورسز کی جانب سے کوکی دیہاتیوں کو لیتان واپس جانے سے روکا گیا، جبکہ ہندو انتہاپسند تانگکھول گروہوں کو بلا روک ٹوک نقل و حرکت کی اجازت دی گئی۔
مختلف رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نہ صرف کوکی آبادی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں بلکہ شدت پسند عناصر کوکی گھروں کو نذرِ آتش کرنے میں بھی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جسے مقامی حلقے ایک خاموش نسل کشی قرار دے رہے ہیں۔
اُکھرول کے علاقے مونگکوٹ چیپو میں تانگکھول ناگا شدت پسند تنظیم این ایس سی این-آئی ایم کے جنگجوؤں کے کوکی گاؤں میں داخل ہونے اور حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جبکہ بھارتی فوج نے توپ خانے اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈز کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کے مکانات تباہ کیے، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 35 سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ بعض دیگر جھڑپوں میں 17 افراد کے مارے جانے اور 87 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد پورا منی پور ایک جنگی میدان کا منظر پیش کر رہا ہے۔
صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چھ روز تک کوکی قبائل کے ساتھ لڑائی کے بعد بھارتی فورسز نے خود جنگ بندی کا اعلان کیا، جبکہ وہی بھارتی میڈیا جو بلوچستان میں حملوں کی کھل کر کوریج کرتا رہا، 4 فروری کے بعد اپنے ہی جنوب مشرقی صوبے میں بگڑتی صورتِ حال پر خاموش دکھائی دیتا ہے۔
منی پور میں انٹرنیٹ معطل، کرفیو نافذ اور ناگا و کوکی برادریوں کے زیرِ استعمال راستے سیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ بھارتی فوج نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی، جس میں ایک کم عمر لڑکی میری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
چوراچندپور میں مشتعل مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر دھرن کمار کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر اسے آگ لگا دی اور مبینہ طور پر انہیں اغوا بھی کر لیا، جبکہ مختلف علاقوں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
منی پور کے آزادی پسند گروہوں نے بھارتی فورسز کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو مسلح افراد سے لڑیں، نہ کہ پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشی کرفیو، انٹرنیٹ بندش اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
تازہ تشدد کے بعد اُکھرول میں مزید سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں، لوگ آتش زنی اور فائرنگ کے خوف سے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی ایشیاء اور ہیومن رائٹس واچ سمیت عالمی برادری کی خاموشی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ کشمیریوں کی طرح منی پور میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں پر بھی کوئی مؤثر عالمی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ پر حد سے زیادہ توجہ دینے والی نئی دہلی حکومت اپنے ہی ملک میں پنپنے والی متعدد علیحدگی پسند تحریکوں کو نظرانداز کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں منی پور مسلسل جبر کے باعث اس کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ کرفیو کے باوجود بھارتی فورسز صورتِ حال پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











