امریکی امیگریشن اداروں کو ملک بدری کی پالیسی پر کانگریس کی سخت تنقید کا سامنا

امریکی امیگریشن اداروں کے سربراہان کو کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملک بدری کی پالیسی کا دفاع کرنے پر سخت تنقید اور مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت کے دوران منی ایپولس میں دو مظاہرین کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس نے امیگریشن کریک ڈاؤن کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ان ہلاکتوں کے بعد اعتراف کیا کہ امیگریشن معاملات میں شاید نرم رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہو اور انتظامیہ نے منی ایپولس سے سینکڑوں افسران واپس بلانے کا اعلان بھی کیا۔
تاہم یہ معاملہ اب بھی حل طلب ہے کیونکہ ڈیموکریٹ اراکین ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ریپبلکن اراکین کی حمایت سے ملک بدری کی مہم جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے قائم مقام سربراہ ٹوڈ لیونز نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ صدر نے انہیں بڑے پیمانے پر ملک بدری کا ہدف دیا ہے اور وہ اس مینڈیٹ کو پورا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے سربراہ روڈنی اسکاٹ اور سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو بھی موجود تھے۔
روڈنی اسکاٹ نے جنوبی سرحد پر اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی بی پی نے گزشتہ ایک سال میں ایک ٹوٹی ہوئی سرحدی صورتحال کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور اب امریکہ تاریخ کی سب سے محفوظ سرحد کا حامل ہے۔
ڈیموکریٹ قانون سازوں نے متعدد امریکی شہروں میں تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں پر شدید تنقید کی جبکہ ریپبلکن نمائندوں نے ان اقدامات کا دفاع کیا۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹم کینیڈی نے کہا کہ انتظامیہ اور اس کے ادارے قانون اور آئین کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ریپبلکن رکن ایلی کرین نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس آئی سی ای اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
منی ایپولس میں گزشتہ دنوں کے دوران ہزاروں وفاقی اہلکاروں نے چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے خلاف منی ایپولس میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا، جبکہ گزشتہ ماہ دو امریکی شہریوں رینی گُڈ اور الیکس پریٹی کی ہلاکتوں نے شدید ردعمل پیدا کیا۔
ڈیموکریٹس نے آئی سی ای کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے جن میں موبائل گشت کا خاتمہ، اہلکاروں کے چہرے چھپانے پر پابندی اور وارنٹ کی شرط شامل ہے۔
ایوانِ نمائندگان کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر نے بیان میں کہا کہ ریپبلکنز کی جانب سے پیش کردہ خاکہ نہ تفصیل رکھتا ہے اور نہ ہی قانون سازی کا مسودہ۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے ردعمل کو نامکمل اور ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مزید وضاحت کے منتظر ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو فنڈنگ کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










