جمعرات، 12-فروری،2026
جمعرات 1447/08/24هـ (12-02-2026م)

بابری مسجد کی شہادت کے 34 سال بعد بھی بھارت کی مسلمان دشمنی کم نہ ہوسکی

12 فروری, 2026 09:49

اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ایک حالیہ بیان نے بھارت میں ایک بار پھر بابری مسجد اور رام مندر کے معاملے کو سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی اور رام مندر کی تعمیر کا وعدہ پورا کیا جا چکا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے حوالے سے سامنے آنے والی اس خبر کے بعد مختلف حلقوں میں اس بیان پر ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات مذہبی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، جبکہ حکومتی حامی اسے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

بابری مسجد کا معاملہ بھارت کی حالیہ تاریخ کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔ 1992 میں مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں ہزاروں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تھے اور یہ واقعہ آج بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے، جو بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر کالے دھبے کے طور پر نمایاں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ہندوتوا بیانیہ طویل عرصے سے بھارتی سیاست میں اثر انداز رہا ہے اور مختلف ادوار میں اس پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اس پس منظر میں یوگی آدتیہ ناتھ کا حالیہ بیان بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔

اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے بھارت میں وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عبادت گاہوں اور اقلیتی برادریوں سے متعلق واقعات بھارت کے جمہوری تشخص پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔

مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا ہے، جنہیں ملکی اور عالمی سطح پر رپورٹ کیا جاتا رہا ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سمیت چند عالمی اداروں نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق بابری مسجد اور رام مندر کا معاملہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا موضوع ہے جو آج بھی بھارتی سیاست، سماج اور مذہبی ہم آہنگی پر اثر انداز ہو رہا ہے اور اس پر دیئے جانے والے بیانات فوری ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔