نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد پہلی بار اعلیٰ امریکی عہدیدار کا دورہ وینزویلا

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کاراکاس میں امریکی وزیر توانائی کرسٹوفر رائٹ سے ملاقات کی، جو نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میر افلورِس محل میں ہونے والی اس ملاقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے نئے پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دوران ملاقات وینزویلا کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ اور برآمدات میں تنوع ایسے فریم ورک کے تحت کیا جائے گا، جو ملک کی توانائی خودمختاری کو یقینی بنائے۔ دونوں فریقین نے ایسے توانائی ایجنڈے کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا، جسے دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر مفید اور تکمیلی قرار دیا گیا۔
امریکی وزیر توانائی نے وینزویلا کے وسیع ہائیڈروکاربن ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے پاس اندازاً 303 ارب بیرل ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔
کرسٹوفر رائٹ نے تسلیم کیا کہ وینزویلا برسوں کی پابندیوں کے باوجود نئے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دوطرفہ ملاقات کے بعد روڈریگیز اور رائٹ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کی اور مذاکرات کے دائرہ کار کو واضح کیا۔
عبوری صدر نے کہا کہ گفتگو کا محور ایک طویل المدتی اور نتیجہ خیز شراکت داری کا قیام تھا تاکہ توانائی کا ایجنڈا دونوں ممالک کے تعلقات کا محرک بن سکے۔ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان توانائی کے شعبے میں تقریباً ڈیڑھ صدی پر محیط تعلقات موجود ہیں جن کا آغاز اسفالٹ کی پیداوار سے ہوا تھا۔
روڈریگیز نے بتایا کہ مذاکرات میں تیل، گیس، معدنیات اور بجلی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بات ہوئی اور امریکی وفد کے ماہرین نے وینزویلا کے حکام کے ساتھ عملی اقدامات کے لیے ابتدائی ملاقاتیں بھی شروع کر دی ہیں تاکہ جلد پیش رفت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ سفارتکاری کے ذریعے اختلافات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہی راستہ دونوں ممالک کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ دوسری جانب امریکی وزیر توانائی نے کہا کہ واشنگٹن کاراکاس کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ تکنیکی اور تجارتی تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک میں معاشی استحکام اور خوشحالی کو تقویت ملے۔ اگر دونوں حکومتیں مشترکہ طور پر کام کریں تو وینزویلا اس سال اپنی توانائی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ نکولس مادورو کی گرفتاری کا وینزویلا کے تیل میں امریکی دلچسپی سے تعلق تھا، جبکہ روڈریگیز نے اس موقع پر وینزویلا کی خودمختاری، قومی یکجہتی اور معاشی بحالی کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ ملک اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے معیشت کو دوبارہ متحرک کرنے کی سمت گامزن ہے۔
یاد رہے کہ وینزویلا کی قومی اسمبلی نے ہائیڈروکاربن قانون میں ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے بعد اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ ان ترامیم کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے بعض پابندیوں میں نرمی کے لیے لائسنس جاری کیے، جسے مقامی میڈیا نے اس امر کی تصدیق قرار دیا کہ پابندیاں وینزویلا کی تیل صنعت کو متاثر کرنے کی حکمت عملی کا حصہ رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










