اسرائیل مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے : علی لاریجانی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں نئی جنگ بھڑکائی جا سکے اور عدم استحکام پیدا ہو۔
انہوں نے دوحہ کے دورے کے دوران الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل مختلف بہانے تراش کر ان مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران کی بات چیت صرف امریکہ کے ساتھ ہو رہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ان کے بقول اسرائیل نے خود کو اس عمل میں شامل کر کے اسے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا اصل مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے اور اس کی حکمت عملی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کو بھی دباؤ میں لانا ہے۔
انہوں نے ستمبر میں قطری دارالحکومت پر حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کا ایجنڈا محض ایران کے خلاف نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی مقاصد سے جڑا ہوا ہے۔ لاریجانی نے خطے کے رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ وہ اس صورتحال سے باخبر رہیں کیونکہ یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں رہا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جون میں ایران پر اسرائیلی حملہ اس وقت کیا گیا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کئی ادوار طے کر چکے تھے اور یہ حملہ عملی طور پر اس سفارتی عمل کو نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔
ان کے مطابق مسقط میں ہونے والی حالیہ بات چیت زیادہ تر پیغامات کے تبادلے تک محدود رہی اور امریکہ کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تجویز ایران کو موصول نہیں ہوئی۔
لاریجانی نے کہا کہ ایران مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ رکھتا ہے اور امریکہ بھی اس نتیجے پر پہنچتا دکھائی دیتا ہے کہ مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر مشترکہ بنیاد موجود ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے اور میزائل پروگرام اس کا حصہ نہیں ہوگا۔ میزائل پروگرام ایران کی قومی سلامتی سے جڑا اندرونی معاملہ ہے، جسے کسی بیرونی مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے لیے یورینیم افزودگی کو صفر تک لانا ممکن نہیں کیونکہ ایران اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکا ہے اور افزودہ یورینیم پرامن مقاصد جیسے کینسر کے علاج اور دیگر سائنسی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے۔ ایران نگرانی اور معائنوں کے لیے تیار ہے اور کوئی بھی آ کر تنصیبات کا جائزہ لے سکتا ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا، جیسا کہ جون میں بارہ روزہ جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، تو ایران اس کا جواب خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کی ترجیح مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہے تاکہ خطہ ایک اور تصادم سے بچ سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










