افغانستان کی صورتحال خطے کے استحکام کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہے : عالمی جریدہ

ایک عالمی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے طالبان دور حکومت کے مختلف پہلوؤں پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک اس وقت انسانی، معاشی اور سلامتی کے متعدد بحرانوں کی زد میں ہے اور حکومتی ڈھانچے پر اندرون و بیرونِ ملک اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔
امریکی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان میں مخالفین، سابق سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ایسی فضا نے خوف اور غیر یقینی کو بڑھایا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طالبان قیادت کے اندر اختلافات اور دراڑیں موجود ہیں، جبکہ ملک میں فتنہ الخوارج سمیت بیس سے زائد مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مجموعی سلامتی کی صورتحال کو پیچیدہ بناتی ہیں۔
یوریشیا ریویو کے مطابق گزشتہ برس افغانستان دنیا میں منشیات کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں رہا، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے افغانستان کی معیشت، سماج اور علاقائی امن پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
رپورٹ میں شامل ماہرین کے تبصروں کے مطابق موجودہ نظام نہ تو اسلامی تعلیمات کی حقیقی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی انسانی اقدار کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق سخت گیر پالیسیوں اور ریاستی اقدامات نے عام شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
جریدے کے مطابق افغانستان کو اس وقت ایسے سیاسی اور انتظامی ماڈل کی ضرورت ہے، جو انسانی حقوق، معاشی بحالی اور داخلی سلامتی کے تقاضوں کو متوازن انداز میں پورا کر سکے۔ موجودہ حالات میں عوامی مشکلات، بے روزگاری، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل نمایاں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کی صورتحال نہ صرف اس کے عوام کے لیے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور عالمی برادری کی توجہ اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












