اسرائیلی صدر کے دورۂ آسٹریلیا پر مظاہرین سے بدترین سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ

سڈنی میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورے کے موقع پر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائیوں پر آسٹریلوی لیبر پارٹی کے اندر سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
لیبر فرینڈز آف فلسطین نامی گروپ نے این ایس ڈبلیو کی پولیس وزیر یاسمین کیٹلی کو خط لکھ کر ٹاؤن ہال کے باہر پیر کی شب ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کے طرزِ عمل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عینی شاہدین اور موبائل فون ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو پیپر اسپرے استعمال کرتے، ہاتھ اوپر اٹھائے ایک شخص کو مارتے اور نماز ادا کرتے مسلم مظاہرین کو زبردستی ہٹاتے دیکھا گیا۔
خط میں کہا گیا کہ ہمیں اس بات پر مایوسی ہے کہ ایک لیبر حکومت، جسے منتخب کرانے میں ہم نے کردار ادا کیا، شہری آزادی کے زوال کی نگراں بنی ہوئی ہے۔ ٹاؤن ہال پر مظاہرین کے خلاف وہ تشدد ہوا جو سب نے دیکھا۔
اس خط پر لیبر پارٹی کے عام اراکین کے دستخط تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی پولیس کی کارروائیوں کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا میں بنیادی حقوق کے مزید زوال کی علامت ہیں۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے بعد نو افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جن پر پولیس پر حملہ، رکاوٹ ڈالنے اور نامناسب رویے جیسے الزامات شامل ہیں۔ اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ 27 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مزید چھ افراد کو پولیس احکامات کی خلاف ورزی پر عدالت میں طلبی کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
این ایس ڈبلیو کے وزیرِاعلیٰ کرس منس نے پولیس کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے ایسی صورت حال پیدا کی جس میں پولیس کے لیے نظم برقرار رکھنا انتہائی مشکل تھا کیونکہ اسی وقت ہرزوگ شہر کے ایک اور اہم مقام پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے گا جس میں باڈی کیمروں کی فوٹیج بھی شامل ہوگی، تاہم محض چند سیکنڈ کی سوشل میڈیا ویڈیو کی بنیاد پر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
این ایس ڈبلیو لیبر کے رکن اسٹیفن لارنس نے پولیس حکمتِ عملی پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ انہوں نے خود ریلی کے دوران تشدد کے مناظر دیکھے۔ لیبر فرینڈز آف فلسطین نے اپنے خط میں کہا کہ ان کے کئی اراکین احتجاج میں موجود تھے اور انہوں نے پولیس کی جانب سے لوگوں کو دھکے دینے، زمین پر گرانے اور زیرِحراست شخص پر پیپر اسپرے کے استعمال جیسے متعدد واقعات دیکھے۔
خط میں کہا گیا کہ ہم ٹاؤن ہال کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے کیے گئے سلوک پر شدید رنج اور غصے کا اظہار کرتے ہیں اور خاص طور پر اس بات پر گہری تشویش ہے کہ نماز ادا کرتے مسلم ساتھیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا جو کسی طور قابلِ جواز نہیں تھا۔
گروپ نے مطالبہ کیا کہ پولیس کے رویے کی مکمل آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور پولیس اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون کے ذریعے احتجاج سے نمٹنے کے زیادہ ترقی پسند طریقہ کار کو فروغ دیا جائے تاکہ سیاسی اظہار کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











