بنگلادیش میں ووٹنگ جاری، نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد شریک

بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر غیر معمولی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔
ملک بھر کے بیالیس ہزار سے زائد پولنگ مراکز میں ووٹنگ صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوئی جو شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر بارہ بجے تک 32 اعشاریہ 88 فیصد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے تھے، یہ اعداد و شمار 32 ہزار 789 پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی سے معاونت یافتہ پہلے پوسٹل بیلٹ سسٹم کے تحت اب تک 11 لاکھ 25 ہزار سے زائد پوسٹل بیلٹس موصول ہو چکے ہیں جن میں بیرونِ ملک مقیم بنگلادیشیوں اور سرکاری اہلکاروں کے ووٹ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد افراد کو پوسٹل بیلٹ کی اجازت دی گئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر نظر آ رہی ہے اور لمبی قطاریں جمہوری جوش کی عکاسی کر رہی ہیں۔ ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ 2008 کے بعد پہلی بار حقیقی معنوں میں ووٹ ڈال رہے۔
دوسری جانب کچھ مقامات سے بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ ڈھاکہ 9 سے آزاد امیدوار تسنیم جارا نے الزام لگایا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو مختلف پولنگ اسٹیشنز میں بے بنیاد وجوہات کی بنا پر داخل ہونے سے روکا گیا۔
جماعتِ اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان المحبوب جبار نے بھولا، کوملہ اور ہاتیا میں کارکنوں پر حملوں کا دعویٰ کیا اور کہا کہ بعض مقامات پر ان کے ایجنٹس کو دستاویزات تیار کرنے سے روکا گیا۔
گوپال گنج کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم نما دھماکا خیز مواد پھینکے جانے سے دو انصار اہلکاروں اور ایک 14 سالہ بچی سمیت تین افراد زخمی ہوئے جس سے ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق دھماکا اسکول کے باہر نہر کے پار سے کیا گیا اور پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔
طلبہ تحریک سے وابستہ گروپ انقلاب منچو نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنے حلقے میں سب سے دیانتدار اور اہل امیدوار کو ووٹ دیں۔
سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے لئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ 24 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو حساس یا درمیانے درجے کا حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق پہلی بار اہلکار باڈی کیمرے پہن کر گشت کر رہے ہیں۔
عبوری رہنما محمد یونس نے ڈھاکہ میں ووٹ ڈالنے کے بعد اسے آزادی کا دن قرار دیا اور کہا کہ آج سے ایک نئے بنگلادیش کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ بی این پی کے طارق رحمان، جماعتِ اسلامی کے شفیق الرحمن اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے نہید اسلام سمیت اہم رہنماؤں نے بھی دارالحکومت میں اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔
ریفرنڈم بھی انتخابات کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے جس میں 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد مجوزہ اصلاحات پر ووٹنگ کی جا رہی ہے۔ 19 سالہ تشفی اور 20 سالہ عرفان جیسے نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم دراصل سب سے اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے آئینی تبدیلیاں متوقع ہیں جو اختیارات کو متوازن کریں گی۔
ملک بھر میں خواتین ووٹرز کی طویل قطاریں، نوجوانوں کا جوش، شفافیت کے مطالبات اور سکیورٹی خدشات اس انتخابی دن کو غیر معمولی بنا رہے ہیں، جسے کئی شہری 17 برس بعد پہلی حقیقی جمہوری آزمائش قرار دے رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








