جمعرات، 12-فروری،2026
جمعرات 1447/08/24هـ (12-02-2026م)

بنگلہ دیش کا نیا سربراہ کون؟ سخت سیکورٹی انتظامات میں پولنگ کا آغاز

12 فروری, 2026 08:26

بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے میدان پوری طرح سج چکا ہے اور ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ پچاس سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ بارہ کروڑ ستر لاکھ سے زائد ووٹرز آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ تین سو میں سے دو سو ننانوے حلقوں میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر تیس منٹ پر شروع ہو چکی ہے جو شام چار بج کر تیس منٹ تک جاری رہے گی۔

تین سو پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلادیش جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار مدمقابل ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے ایک سو اکاون نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی، اسی لیے ہر نشست پر سخت مقابلے کی فضا قائم ہے۔

بی این پی کی جانب سے طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں جبکہ جماعتِ اسلامی کے شفیق الرحمان مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابی عمل سے باہر ہے جبکہ جین زی پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی جماعتِ اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے، جس نے سیاسی منظرنامے میں نئی صف بندیاں پیدا کر دی ہیں۔

عام انتخابات کے پیش نظر ملک بھر میں فوج تعینات ہے اور سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

تازہ عوامی سروے کے مطابق بی این پی اتحاد کو چوالیس اعشاریہ ایک فیصد جبکہ جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو تینتالیس اعشاریہ نو فیصد ووٹ ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے سخت اور کانٹے دار مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ڈھاکا کے پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی طویل اور پُرجوش قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کا منظر ہے۔ سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور مسلح پولیس اہلکار تعینات ہیں کیونکہ ماضی میں ووٹنگ کے دوران تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم آج اب تک کسی تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔

جنوبی ڈھاکا کے ایک ضلع میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی جہاں ایک شخص کو نقدی سے بھرے لفافوں کے ساتھ ووٹ خریدنے کی نیت سے پکڑا گیا۔ اس شخص کے خلاف خصوصی مجسٹریٹ عدالت میں فوری کارروائی کی گئی جو اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی۔

حکام کی کوشش ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر پُرامن رہے اور کسی قسم کی بدامنی جنم نہ لے۔ جماعتِ اسلامی کے سربراہ نے دارالحکومت میں مونی پور بوائز ہائی اسکول کے ڈھاکا-15 پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ نہید اسلام نے اپنا ووٹ ڈھاکا کے علاقے بدہ میں اے کے ایم رحمت اللہ کالج میں کاسٹ کیا جہاں وہ پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ 2018 کے انتخابات سے ووٹ ڈالنے کے اہل تھے لیکن شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران ہونے والے دونوں انتخابات میں انہوں نے ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما نے حالیہ مہینوں میں جماعت کو ایک معتدل اسلامی سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ پارٹی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک ہندو امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے جو سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جماعتِ اسلامی جو ماضی میں محض دس فیصد ووٹ حاصل کرنے والی قوت سمجھی جاتی تھی، اب تیس فیصد سے زائد حمایت کے ساتھ ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر سامنے آ چکی ہے، تاہم بی این پی اب بھی سب سے آگے سمجھی جا رہی ہے۔ اگر جماعتِ اسلامی کامیابی حاصل کرتی ہے تو اسے بڑا اپ سیٹ تصور کیا جائے گا۔

آج کے انتخابات اور ریفرنڈم کے دوران ملک بھر کے بیالیس ہزار سات سو اناسی پولنگ مراکز میں سے نوے فیصد سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں ہیں۔ پہلی بار قومی انتخابات میں ڈرونز اور باڈی کیمرے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام کارروائی ریکارڈ کی جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد فراہم ہو۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔