افغان سرزمین سے حملوں کے باوجود پاکستان کی سرحد پار کارروائی کیوں نہیں؟

پاکستان میں یہ سوال تیزی سے اٹھ رہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والے مہلک دہشت گرد حملوں کے باوجود پاکستان نے اب تک افغانستان کے اندر براہِ راست فوجی کارروائی کیوں نہیں کی۔
پالیسی سازوں اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی یہی پوچھ رہے ہیں کہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں مربوط حملوں کے باوجود سرحد پار کارروائی سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے۔
افغان امور کے ماہر صحافی حسن خان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان نے ایک تیسرے ملک کے ذریعے پاکستان سے وقت مانگا ہے تاکہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے مسئلے کو اندرونی طور پر حل کر سکیں۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان خاموش سفارتی رابطے، براہِ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر، مسلسل جاری رہے ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ اسی سفارتی عمل نے کشیدگی میں فوری اضافے کو روکے رکھا، اگرچہ پاکستان کے اندر ہر نئے حملے کے بعد عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں موجود بعض حلقے، جو طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ سرحد پار حملے عام افغان شہریوں میں پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں اور انہیں سخت گیر گروہوں کے قریب دھکیل سکتے ہیں۔ ان خدشات نے فوری فوجی مداخلت کے مطالبات کو وقتی طور پر کم ضرور کیا، مگر اب صبر کی حد ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف واضح طور پر خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی مزید برداشت نہیں کرے گا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عسکری آپشن سنجیدگی سے زیر غور ہیں۔ مسلسل حملوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ صرف سفارت کاری اس خطرے کو روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ کمیٹی بھی تصدیق کر چکی ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک نیٹ ورکس افغانستان کے اندر آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ پاکستان کے مؤقف کو تقویت اور یہ عندیہ بھی دیتی ہے کہ اگر ہدفی کارروائی کی جاتی ہے تو عالمی سطح پر تنقید محدود ہو سکتی ہے۔
تاہم کسی بھی آپریشن کے ساتھ سنگین خطرات جڑے ہوئے ہیں کیونکہ اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے گنجان آبادی والے علاقوں میں منتقل کر لیے ہیں، جس سے درست نشانہ بندی مشکل اور شہری جانی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اس کے باوجود اسلام آباد کے پاس آپشنز تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ سفارت کاری کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ اگر افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے ڈھانچے کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو سرحد پار ہدفی حملے تقریباً ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔
آنے والے مہینے فیصلہ کن ہوں گے جہاں پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور خطے میں وسیع تر عدم استحکام سے بچنے کے درمیان نازک توازن قائم رکھنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال زیادہ دیر برقرار رہنا ممکن نہیں رہی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











