جمعہ، 13-فروری،2026
جمعہ 1447/08/25هـ (13-02-2026م)

افغانستان سرحد پار جرائم اور دہشتگردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے : امریکی جریدہ

13 فروری, 2026 10:07

امریکی جریدے یوروشیا ریویو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں افغانستان ایک منظم ریاست کے بجائے شدت پسندی اور دہشتگردی کے گڑھ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں سے سرحد پار دراندازی اور دہشتگرد کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان سے شدت پسند عناصر پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی سرحدوں میں داخل ہو کر حملوں اور جرائم کی کارروائیوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں اور یہ واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔

جریدے نے لکھا ہے کہ افغانستان کی بار بار دراندازی کے باعث کولیکٹو سیکورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کو تاجکستان کی سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے پر مجبور ہونا پڑا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اب صرف داخلی عدم استحکام کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ مسلح گروہوں، سرحد پار جرائم اور دہشتگرد نیٹ ورکس کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں بیس سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں جبکہ تقریباً تیرہ ہزار غیر ملکی جنگجو بھی وہاں موجود ہیں جو خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کے اثرات واضح طور پر پڑوسی ممالک پر پڑ رہے ہیں اور پاکستان و ایران کو سرحدی خطرات، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان نہ صرف دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے بلکہ وہاں سے منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دھندا بھی عروج پر ہے جو پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی سخت گیر اور جابرانہ پالیسیوں نے نہ صرف خطے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں اور صورتحال میں بہتری کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔