جمعہ، 13-فروری،2026
جمعہ 1447/08/25هـ (13-02-2026م)

بنگلہ دیش انتخابات : بی این پی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب

13 فروری, 2026 08:36

میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے 211 نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت یقینی بنا لی ہے، جبکہ مقامی ٹی وی چینل جامونا ٹی وی کے مطابق 299 میں سے 287 حلقوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

بی این پی کے میڈیا سیل نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ جماعت واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب گنتی کے ساتھ ساتھ آئینی ریفرنڈم کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق اس میں بھی ’’ہاں‘‘ کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

بی این پی نے اپنی کامیابی کے جشن کے لیے جلسے جلوسوں کے بجائے ملک بھر کی مساجد میں نمازِ ظہر کے بعد دعاؤں کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا ہے اور کارکنان سے کہا ہے کہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے لیے مغفرت اور نیک تمناؤں کی دعا کریں۔

غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق اگر یہ نتائج برقرار رہے تو بی این پی کے رہنما طارق رحمان بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں، جو 17 سالہ سیاسی جلاوطنی کے بعد لندن سے دسمبر میں وطن واپس آئے تھے۔

ان نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے اتحاد نے 70 نشستیں حاصل کیں، جبکہ دیگر جماعتوں کے حصے میں 6 نشستیں آئیں، یوں پارلیمان میں ایک مضبوط اپوزیشن کی موجودگی بھی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ بی این پی کے اتحاد میں گونو اودھیکار پریشد اور گونو سونگھوٹی اندولون بھی شامل ہیں، جنہوں نے مختلف حلقوں میں اہم کامیابیاں حاصل کر کے مجموعی برتری میں کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق جماعتِ اسلامی نے قومی سطح پر اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور یہ کامیابی اس اتحاد کے نتیجے میں سامنے آئی ہے جس میں 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد وجود میں آنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے۔

طارق رحمان نے انتخابی مہم کے دوران بدعنوانی کے خاتمے، قانون کی عملداری، انفراسٹرکچر اور صحت کے نظام کی بحالی جیسے بڑے وعدے کیے اور ماضی میں کرپشن کے الزامات سے جڑی اپنی جماعت کے لیے ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی کا اعلان کیا۔

بی این پی کی پالیسیوں میں ’’فیملی کارڈ‘‘ نمایاں ہے جس کے تحت خواتین اور بے روزگار افراد کو ماہانہ نقد امداد دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل جدت اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے، 2024 کی تحریک سے متاثر ’’جولائی نیشنل چارٹر‘‘ پر عملدرآمد اور اس کے ساتھ ریفرنڈم کرانے کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، خارجہ پالیسی میں ’’سب سے پہلے بنگلہ دیش‘‘ کا نعرہ دیا گیا ہے اور روہنگیا برادری کی واپسی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ تیستا دریا کے پانی کے تنازع پر 1997 کے اقوام متحدہ واٹر کنونشن پر دستخط کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

ادھر جماعتِ اسلامی نے انتخابی نتائج کے عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نتائج کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں، کئی حلقوں میں غیر معمولی فرق سے شکست، غیر سرکاری نتائج میں تضادات، ووٹر ٹرن آؤٹ کی تفصیلات جاری نہ ہونا اور انتظامیہ کے بعض حصوں کے رویئے نے نتائج کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور اس حوالے سے 11 جماعتی اتحاد کے آئندہ لائحہ عمل کا انتظار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر جماعتِ اسلامی اتحاد 30 سے 35 فیصد ووٹ حاصل کرتا ہے تو نشستیں کم ہونے کے باوجود پارلیمان میں اس کی آواز اور سیاسی وزن برقرار رہے گا۔

یوں بنگلہ دیش کی سیاست ایک بڑے موڑ پر کھڑی ہے جہاں دو تہائی اکثریت، مضبوط اپوزیشن، آئینی ریفرنڈم اور طارق رحمان کی ممکنہ وزارتِ عظمیٰ مل کر ایک نئے سیاسی دور کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔