جمعہ، 13-فروری،2026
جمعہ 1447/08/25هـ (13-02-2026م)

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی سے متعلق نقشہ جاری

13 فروری, 2026 11:20

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق ایک انٹرایکٹو نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں خطے میں امریکی عسکری اثاثوں کی تفصیلی صف بندی دکھائی گئی ہے۔

آئی این ایس ایس کی جانب سے جاری کیا گیا یہ نقشہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ کار میں موجود علاقوں میں امریکی افواج کی تعیناتی کو نمایاں کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال محض علامتی نہیں بلکہ عملی عسکری تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اقتصادی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے، تاہم اس کے باوجود نظام برقرار ہے اور کسی بڑے عسکری انحراف کے آثار نظر نہیں آتے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کی وفاداری اور عملی صلاحیت بدستور قائم ہے جبکہ باقاعدہ فوج میں بھی کسی بڑے پیمانے پر بغاوت یا ٹوٹ پھوٹ کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تجزیے کے مطابق صرف عوامی احتجاج کسی نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بنتا جب تک بیرونی مداخلت شامل نہ ہو۔

امریکہ نے واضح اشارہ دیا ہے کہ ایران کی اندرونی سخت کارروائیوں اور جوہری و عسکری تیاریوں کو وہ ممکنہ جنگی جواز کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ ساتھ ہی سفارتی دباؤ کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔

موجودہ صورتحال دو متوازی راستوں پر چل رہی ہے جہاں ایک طرف سفارتی بات چیت جاری ہے اور دوسری طرف عسکری تیاریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تہران کی نظر میں امریکا کے ساتھ مذاکرات وقتی فائدہ اور وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی دکھائی دیتے ہیں جبکہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری مسئلے پر سفارتی حل کی آمادگی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

عسکری محاذ پر امریکی اور ایرانی افواج کی نقل و حرکت، نگرانی کی سرگرمیوں میں اضافہ اور نفسیاتی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ممکنہ حملے کی تیاری محض قیاس آرائی نہیں۔

امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن عمان کے ساحل کے قریب تعینات ہے جس کے ساتھ مکمل فضائی ونگ موجود ہے۔ عرب سمندر، مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں آرلی برک کلاس ڈسٹرائر کے آٹھ جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔

فضائی محاذ پر تقریباً چھتیس ایف پندرہ اسٹرائیک ایگل طیارے بالخصوص اردن کے اڈوں پر موجود ہیں، جبکہ ایف پینتیس طیاروں کی خطے کی جانب نقل و حرکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ نگرانی اور انٹیلی جنس کے لیے آر سی ایک سو پینتیس، ایم کیو چار سی ٹرائیٹن اور ای گیارہ اے جیسے اثاثے سرگرم ہیں۔

عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے ریسکیو اثاثے بھی تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایچ سی ایک سو تیس اور ایچ ایچ ساٹھ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ خطے میں پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ میزائل خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔

لاجسٹک سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں بڑے عسکری ٹرانسپورٹ طیارے مسلسل نقل و حرکت میں ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔