جمعہ، 13-فروری،2026
جمعہ 1447/08/25هـ (13-02-2026م)

ایران سے جنگ کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ پر کیا گزرے گی؟ امریکی جریدے کی چونکا دینے والی پیشگوئیاں

13 فروری, 2026 13:38

میگزین فارن پالیسی نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایران اور امریکہ، بشمول اسرائیل، کے درمیان ممکنہ براہِ راست تصادم کے سنگین اور دور رس نتائج کا حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

میگزین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ روایتی زمینی حملوں جیسی نہیں ہوگی جیسا کہ ماضی میں عراق میں دیکھا گیا، بلکہ یہ جنگ زیادہ تر فضائی، سمندری اور سائبر حملوں پر مشتمل ہوگی۔

فارن پالیسی لکھتا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل ایران پر قبضے کی کوشش کرنے کے بجائے ایرانی جوہری تنصیبات، فوجی انفراسٹرکچر اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کریں گے۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں موجود اپنے اتحادی گروہوں کو بھرپور انداز میں استعمال کرے گا تاکہ توجہ تقسیم کی جا سکے اور مخالف قوتوں کو مختلف محاذوں پر الجھایا جا سکے۔

ایران کے اتحادیوں میں لبنان میں موجود حزب اللہ، یمن میں سرگرم حوثی اور عراق و شام کی ملیشیائیں شامل ہیں، جو بیک وقت اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

مضمون کے مطابق ایران کے پاس مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل پروگرام موجود ہے، جس کے ذریعے خلیج فارس میں موجود بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر ایران اس اہم سمندری راستے کو بند کرنے یا وہاں جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت شدید کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

یہ جنگ صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سائبر وارفیئر اس کا اہم حصہ ہوگی۔ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بنیادی ڈھانچے جیسے بجلی کے نظام، بینکنگ سسٹم اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کر کے اندرونی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس جنگ کا سیاسی اور انسانی نقصان بھی بے حد سنگین ہوگا۔ بیرونی حملے کی صورت میں ایرانی عوام اپنی قیادت کے گرد متحد ہو سکتے ہیں، جس سے حکومت کی تبدیلی کا مقصد حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں اور یورپ سمیت پڑوسی ممالک کو مہاجرین کے ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کسی بھی صورت میں تیز رفتار فتح ثابت نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک طویل، مہنگی اور پیچیدہ جنگ ہوگی جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور جس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔