چین کو ایران سے تیل خریدنے سے روکنا ہے : امریکہ اور اسرائیل کا اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں خاص طور پر چین کو ایرانی تیل کی برآمدات کو ہدف بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر پوری شدت سے عمل جاری رکھا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا مرکزی نکتہ چین کو ایران سے تیل خریدنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایران کی 80 فیصد سے زائد تیل برآمدات چین کو جاتی ہیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اقتصادی دباؤ کی یہ مہم جاری جوہری مذاکرات کے ساتھ ساتھ چلائی جائے گی۔ تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہو جاتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنے مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو ہدایت دی کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات کا جائزہ لیں۔ مشیروں نے سابقہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تسلی بخش معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایرانی مؤقف میں کچھ حد تک لچک دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔
اسی سلسلے میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جنیوا میں ایک ایرانی وفد سے ملاقات طے ہے، جو مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔ اس سے قبل عمان کے وزیر خارجہ کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے اور واشنگٹن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی طے شدہ شرائط پر پورا نہ اترتا ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر چین ایرانی تیل کی خریداری کم کر دیتا ہے تو تہران پر معاشی دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا، جو اسے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ جاری سفارتی عمل، علاقائی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات پر منحصر ہوگا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










