افغانستان میں دو امریکی گرفتار، واشنگٹن کا سخت ردِعمل

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے یرغمالی امور ایڈم بوہلر نے کہا ہے کہ افغانستان میں دو امریکی شہری اس وقت حراست میں ہیں، اور اس صورتحال کو انہوں نے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
ایڈم بوہلر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ افغانستان کی موجودہ حکمران اتھارٹی، جسے اسلامی امارتِ افغانستان کہا جاتا ہے، کو فوری طور پر ہر قسم کی یرغمالی پالیسی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی شہریوں کی حراست نہ صرف انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ عالمی سفارتی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کی مسلسل گرفتاری امریکا کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔
امریکی ایلچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ واشنگٹن اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔
اگرچہ بیان میں زیرِ حراست امریکی شہریوں کی شناخت یا ان کی گرفتاری کی وجوہات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کی گرفتاری خطے میں استحکام اور بین الاقوامی اعتماد کے لیے نقصان دہ ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری یا یرغمال بنانا قابلِ قبول عمل نہیں اور اس سے افغانستان کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی رہائی تک اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے رہیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










