یورپ میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی لہر تیز، مزدور تحریکیں سرگرم

یورپ بھر میں مزدور تنظیمیں اسرائیل کے ساتھ تجارت روکنے کے لیے اپنا دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
آئرلینڈ، برطانیہ اور ناروے کی یونینز نے قراردادیں منظور کی ہیں کہ ملازمین کو اسرائیلی اشیاء سنبھالنے کے کام پر مجبور نہ کیا جائے۔ برطانیہ کی کوآپ اور اٹلی کی کوآپ الیانزا 3.0 سمیت بعض ریٹیل اداروں نے غزہ جنگ کے خلاف احتجاجاً کچھ اسرائیلی مصنوعات ہٹا دی ہیں۔
یہ تحریک 2005 میں شروع ہونے والی فلسطینی قیادت میں قائم بائیکاٹ، سرمایہ نکاسی اور پابندیوں کی مہم سے جڑی ہوئی ہے، جسے بی ڈی ایس تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرے، ورنہ اس کے خلاف معاشی اور ثقافتی بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔
تحریک کے حامی ماضی کی مثال دیتے ہیں۔ 1984 میں آئرلینڈ کے ڈنز اسٹورز کے ملازمین نے نسل پرستانہ نظام کے تحت چلنے والے جنوبی افریقہ کی مصنوعات سنبھالنے سے انکار کیا تھا۔ یہ اقدام تقریباً تین برس جاری رہا اور بعد میں آئرلینڈ مغربی یورپ کا پہلا ملک بنا، جس نے جنوبی افریقہ کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کی۔
یورپ کی بعض حکومتوں نے بھی اسرائیل سے درآمدات محدود کرنے کی جانب قدم بڑھا ہے۔ اسپین اور سلووینیا نے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے تجارت محدود کرنے کے اقدامات کیے۔
اگست 2025 میں سلووینیا نے مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی، جبکہ اسپین نے اسی سال کے آخر میں اسی نوعیت کا حکم نامہ جاری کیا، جس پر 2026 کے آغاز میں عمل درآمد شروع ہوا۔
نیدرلینڈز میں 2025 کے دوران فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں نے سیاسی مباحثے پر اثر ڈالا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض ارکان پارلیمان نے غیر قانونی بستیوں سے درآمدات روکنے کا مطالبہ کیا۔
آئرلینڈ میں بھی 2018 میں پیش کیا گیا، مقبوضہ علاقوں سے متعلق بل دوبارہ زیر بحث ہے، جو مغربی کنارے سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی اشیاء پر پابندی لگانے سے متعلق ہے، تاہم اس کی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












