بی جے پی دور میں امتیازی سلوک عروج پر، کشمیری طلبہ کو تعلیم سے محرومی کا سامنا

بھارت میں انتہاپسند ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث کشمیری طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ امتیازی سلوک اور مسلم دشمنی کے ماحول نے ان کے تعلیمی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری نوجوانوں کو ہراسانی، دھمکیوں اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ان کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بھارت کے معروف انگریزی روزنامے نیو انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بی جے پی حکومت کے طرزِ عمل اور اس کے اثرات کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا کہ عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے باعث ریاست اتراکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند برس قبل جہاں اتراکھنڈ میں کشمیری طلبہ کی تعداد تقریباً چھ ہزار تھی، وہ کم ہو کر دو ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور تاجروں کو مختلف شہروں میں مسلسل ہراسانی اور حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے بعد خوف اور غیر یقینی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبہ کے اہلِ خانہ بھی اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
اخبار کے مطابق 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد سے کشمیری طلبہ کے خلاف امتیازی اور ناروا سلوک میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری نوجوانوں کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر انہیں حملوں، دھمکیوں اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی فضا میں انتہاپسند سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے اور حکومتی سطح پر ایسی بیانیہ سازی کی جا رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو تقویت ملتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت ہندوتوا نظریے کو مضبوط کر رہی ہے، جس کے اثرات اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر نمایاں طور پر پڑ رہے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ نسلی اور مذہبی تعصب پر مبنی پالیسیوں کے باعث بھارت میں اختلافی سوچ، دیگر مذاہب اور مختلف نسلوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں کشمیری طلبہ جیسے حساس طبقے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف مذہبی بلکہ علاقائی شناخت کی بنیاد پر بھی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ نام نہاد سیکولر تشخص رکھنے والا بھارت عملی طور پر انتہاپسند ہندوتوا نظریے کے زیر اثر مسلمانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو کشمیری نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی مزید محدود ہو سکتی ہے، جس کے دور رس سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔
تعلیمی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہریوں کو بلا تفریق تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ تاہم موجودہ حالات اس اصول کے برعکس دکھائی دیتے ہیں جہاں خوف اور عدم تحفظ کے باعث کشمیری طلبہ کی بڑی تعداد دیگر ریاستوں میں داخلہ لینے سے گریز کر رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












