ایرانی وزیر خارجہ جوہری مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوسرے اور اہم دور میں شرکت کریں گے۔
عباس عراقچی نے جنیوا روانگی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے سنجیدہ تجاویز کے ساتھ آئے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیوں کے سامنے جھکنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ ایران کے ایٹمی ماہرین کے ہمراہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی تفصیلی تکنیکی بات چیت کریں گے، جو ایران کی بارہ روزہ جنگ کے دوران بمباری کا سامنا کرنے والی اہم جوہری تنصیبات تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ ممکنہ تابکاری خطرات کے باعث معائنہ ایک باقاعدہ ضابطہ کار کے تحت ہی ممکن ہے، کیونکہ مبینہ طور پر زیادہ افزودہ یورینیم ملبے تلے موجود ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ اپنے عمانی ہم منصب بدر بن حمد البوسعیدی سے بھی ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کو جنیوا مذاکرات میں نمائندگی کے لیے بھیج سکتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ دنوں میں واضح کیا تھا کہ اگر حالات بگڑے تو یہ تنازع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں جنیوا میں ہونے والی یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












